مرزا اسد اللہ خان غالب کی ایک سو تریپن ویں برسی

اردو شاعری کو نئی جہت بخشنے والے مرزا اسد اللہ خان غالب کی ایک سو تریپن ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ منفرد انداز اور اچھوتے مضوعات پر شاعری نے مرزا غالب کو وہ مقام بخشا جو چند ایک شعراء کے حصے میں ہی آیا۔

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ اور والد کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ آپ 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں یتیم ہوگئے تھے ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن 8 سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔

نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا، 1810 میں 13 سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراء بیگم سے ہو گئی، شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے، اس دوران انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی۔

شروع میں وہ فارسی اور مشکل اردو زبان میں شاعری کرتے تھے اور اس زمانے میں اسد ان کا تخلص تھا تاہم معاصرین کے طعنوں کے بعد انھوں نے اپنی شاعری کا رخ بدلا اور اسے ایسی آسان زبان، تخیل اور فلسفیانہ انداز میں ڈھالا کہ کوئی اور شاعر ان کے مدمقابل نظر نہیں آتا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More