لانگ مارچ کے دوران مجھے دھمکیاں دی گئی، وزیراعلیٰ گلگت بلتستان

اسلام آباد: وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان خالد خورشید خان نے کہا ہے لانگ مارچ کے دوران ایس ایس پی رینک کے ایک افسر نے مجھے دھمکیاں دیں ہم پر شیلنگ کی گئی، صورتحال سے متعلق صدر مملکت، چیف جسٹس پاکستان اور آرمی چیف کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے

وزیراعلی گلگت بلتستان خالد خورشید خان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم جی بی کی حکومت ہیں اور ہمارا پی ٹی آئی سے تعلق ہےجس طرح باقی تمام سیاسی پارٹیاں لانگ مارچ کرتے رہے ہیں انکے وزرائے اعلی بھی مارچ میں شریک ہوتے رہے، ہم بھی اپنی پارٹی کے لانگ مارچ میں شریک ہوئے۔

انہوں نےکہا کہ ہم پشاور جا رہے تھے پولیس نے کہا آپ واپس جائیں، ایس ایس پی رینک کے آفیسر نے کہا واپس جائیں ورنہ آپ نقصان اٹھائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ گاڑی پر جھنڈا لگا ہوا تھا پھر بھی شیلنگ کی گئی، پولیس کبھی بھی کسی بڑے کے آرڈر کے بناء خود ایسے نہیں کرتی، یہ گلگت بلتستان کی تضحیک ہے ہم خاموش نہیں بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا کہ راستے کھول دیئے جائیں لیکن انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا، چیف سیکرٹری پنجاب کو فون کر کے پولیس افسر کی شکایت بھی کی، ہم بھی حکومت کا حصہ ہیں ہمیں پتا ہے پولیس کیسے کام کرتی ہے۔

وزیراعلی گلگت بلتستان نے کہا کہ ہم آرمی چیف، چیف جسٹس اور صدر کو خط لکھ رہے ہیں، ہم پر سزا بنتی ہے تو ہم استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More