ایف ڈبلیو او کا لینڈ ایکوائر کیس، سماعت غیرمعینہ مدت کیلئے ملتوی

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ایف ڈبلیو او کی جانب سے زمینیں ایکوائرکرنے کے کیس میں ایف ڈبلیو او کی تشکیل کا صدارتی حکم طلب کرلیا۔

سپریم کورٹ نے ایف ڈبلیو او کی جانب سے زمینیں ایکوائرکرنے کے کیس کی سماعت ہوئی ۔ دوران سماعت جسٹس سردارطارق نے استفسار کیا کہ ایف ڈبلیو او کے وکیل بتائیں کہ صدارتی حکم کی اہمیت ہے یا نہیں ؟ ۔کہتے ہیں تو کیس کو صدارتی حکم کے بغیر ہی چلا کر فیصلہ کرتے ہیں۔ایف ڈبلیو او کا وجود اور اختیارات کیس کے بنیادی نقطے ہے۔دیکھنا ہے کہ کیا ایف ڈبلیو او زمینیں ایکوائر کرکے سیمنٹ فیکٹری لگا سکتا ہے یا نہیں؟۔

جسٹس سردار طارق نے کہا کہ ملک میں مختلف عمارتوں سے ریکارڈ غائب کرنے کےلیے تو آگ لگتی رہی ہے۔ایوان صدر میں تو آج تک آگ بھی نہیں لگی۔ایف ڈبلیو او تو یہ بھی نہیں کہہ سکتی کہ آگ لگ گئی۔صدارتی حکم نہیں مل رہا۔کہیں اب ایوان صدر میں آگ نہ لگ جائے۔

وکیل احسن بھون نے صدارتی حکم کی تلاش کےلیے مزید مہلت کی استدعا کی جس پرعدالت نے سماعت غیرمعینہ مدت کےلیے ملتوی کردی۔ایف ڈبلیو او کی جانب سے سیمنٹ فیکٹری لگانے کیلئے ہری پور میں 3 ہزار کنال زمین ایکوائر کی گئی۔اہل علاقہ نے زمین ایکوائر کے کے عمل کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More