لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار سابقہ نااہل حکومت ہے، مصدق ملک

اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نون کے مرکزی رہنما سینیٹر مصدق ملک نے لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار عمران خان حکومت کی مجرمانہ نااہلی اور نالائقی کو قرار دے دیا۔

سینیٹر مصدق ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ 2013 میں پاکستان میں ہر طرف لوڈشیڈنگ ہورہی تھی۔ پاکستان کے شہری علاقوں میں 12 سے 14 گھنٹے اور دیہاتی علاقوں میں 14 سے 16 اور 18 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو رہی تھی۔ میاں نواز شریف نے اپنی حکومت ل انتھک محنت کر کے 12000 میگاواٹ اضافی بجلی نیشنل گرڈ میں شامل کی۔ نوازشریف کی محنت سے ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم ہوئی۔

مصدق ملک نے کہا کہ نوازشریف کی محنت سے پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 35000 میگاواٹ تک پہنچا دی۔ بدقسمتی ہے کہ 2022 میں وہی اضافی 12000 میگاواٹ بجلی بند ہے جو نوازشریف دور میں بڑی محنت سے تیار کی گئی تھی۔ آج 5000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی بند ہے کیونکہ عمران حکومت نے تیل اور گیس نہیں خریدی۔ اضافی 4000 میگاواٹ بجلی کارخانوں کی مرمت نہ ہونے سے دستیاب نہیں۔

مصدق ملک نے کہا کہ عمران حکومت بر وقت ایندھن اور مرمت کا بندوبست کرتی تو عوام کو لوڈشیڈنگ کی اذیت کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ 2000 میگا واٹ بجلی شیڈول لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ یہ وہ دورانیہ ہے جس میں ہر سال بجلی کے کارخانوں کی مرمت ہوتی ہے۔ ہمارے دور میں مرمت اور اوور ہالنگ سردیوں اور بہار میں کی جاتی تھی۔ جب عوام کو بجلی کی کم ضرورت ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ عمران حکومت نے 4 ڈالر کی ایل این جی نہیں خریدی۔ اب 22 سے 28 ڈالر کی ایل این جی خریدی جا رہی ہے۔ عمران حکومت کی نااہلی کی داستان نہ ختم ہونے والی ہے۔ ہمارے دور میں جو گردشی قرض 1100 ارب کا تھا، عمران دور حکومت میں 2400 ارب سے زائد ہوچکا ہے۔

مصدق ملک نے کہاکہ عمران حکومت نے ملکی معیشت کی طرح توانائی کے شعبے کو بھی تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ تیل کے کارخانوں کے پاس اس وقت ایل سی کھولنے کے پیسے نہیں۔ ایل این جی جن محکموں نے منگوانی تھی وہ نیب کے ڈر سے کسی کاغذ پر دستخط کرنے کو تیار نہیں۔ ان عوامل کی وجہ سے عوام کو آج رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے عذاب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More