تازہ ترین
بھارت نے آنکھ اٹھائی تو فروری یاد رکھے،وزیر خارجہ

بھارت نے آنکھ اٹھائی تو فروری یاد رکھے،وزیر خارجہ

اسلام آباد:(19 جون 2020) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھارت کو دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آنکھ اٹھائی تو فروری کی یاد تازہ کرتے ہوئے اسے سرپرائز دیں گے،پاکستان بھارت کی گیڈربھبکیوں میں آنے والا نہیں۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف جھوٹا فلیگ آپریشن کر سکتا ہے تاہم پاکستان کا کام بھارت کو بے نقاب کرنا ہے وہ ہم کرتے رہیں گے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بھارت تنہا ہو رہا ہے، موجودہ صورت حال میں نیپال، بھوٹان اور سری لنکا بھی بھارت کےخلاف ہے اور افغانستان بھی سوچ رہا ہے کہ امن و امان میں رخنہ بھارت ڈال رہا ہے۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ چین کی سوچ کیا ہے میں جانتا ہوں،بھارت کی کیفیت یہ ہے کہ چین بھی بھارت کے پانچ اگست کے اقدام کو مسترد کر دیا اور بھارت اور چین میں پچاس سال بعد سرحدی جھڑپیں ہوئیں۔

پالیسی بیان میں وزیرخارجہ نے کہا کہ سلامتی کونسل الیکشن میں ہم بھارت کے خلاف انتخاب لڑ سکتے تھے لیکن اس کا کوئ فائدہ نہیں ،اس بارے میں ایشیا پیسیفک گروپ کی مشاورت بھی ہوتی ہے۔بھارت 2013سے سیکیورڑی کونسل کا رکن بننے کیلئے مہم چلا رہا تھا ،2013میں پی ٹی آئی کی حکومت تھی نہ میں وزیر خارجہ تھا، ہندوستان کو واک اوور ہم نے نہیں بلکہ کسی اوور نے دیا۔

وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان اوربھارت سیکیورٹی کونسل کے ایک ہی گروپ میں ہیں، بھارت 7 مرتبہ اور پاکستان بھی 7 مرتبہ سیکیورٹی کونسل کارکن بن چکا ہے، سیکیورٹی کونسل میں پانچ مستقل اور دس غیر مستقل ممبر ہیں،پاکستان 2025 -26 کیلئے سلامتی کونسل کی رکنیت کا خواہشمند ہے، اس کیلئے ہمیں آج سے کمپین کرنے کی ضرورت ہے۔

حکومتی اراکین سینیٹر فیصل جاوید اورمحسن عزیز نے بجٹ کو عوام دوست قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کا پیسہ عوام کی امانت ہوتا ہے ملکی پیسہ اپنی عیاشیوں پر خرچ نہیں ہونا چاہیے،عمران خان قوم پر قومی پیسہ خرچ کرنا چاہتے ہیں ،وزیراعظم اپنا ذاتی خرچہ تک خود اٹھاتے ہیں ۔

فیصل جاوید نے کہا کہ پانامہ کا معاملہ اٹھانے پر عمران خان کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،عمران خان ملک سے بھاگے نہیں ، چالیس سالہ پرانے ثبوت پیش کئے ،ملک کو لوٹنے والوں نے باہرجائیدادیں بنائی،بجٹ پر بحث جاری تھی کہ اجلاس پیر کی شام چار بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top