وفاقی کابینہ نے فوری انتخابات کی مخالفت کردی

اسلام آباد: وفاقی کابینہ نے اصلاحات کے بغیر فوری طور پر الیکشن میں جانے کی مخالفت کر دی۔ کابینہ اراکین نے نیب کو کالا قانون قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سیاسی انتقام ، سرکاری اہل کاروں اور کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کےلئے استعمال ہوتا رہا۔ کابینہ نے نیب ترامیم کیلئے وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی بھی منظوری دیدی ۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ۔کابینہ کی طرف سے جاری اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے نیب ترامیم کیلئے وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دیدی ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے آئی ٹی برآمدات کا ہدف 15 ارب ڈالر مقرر کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کے آئی ٹی شعبہ میں سرمایہ کاری اور برآمدات کے وسیع مواقع موجود ہیں جن سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔

وزیراعظم نے کابینہ کو بتایا کہ ملک میں شدید گرمی کی لہر کا سامنا ہے جس کیلئے خصوصی ٹاسک فورس وزارت ماحولیاتی تبدیلی کے زیر انتظام تشکیل دی گئی ہے۔ کابینہ اجلاس میں نیب ترامیم کے حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔کابینہ اراکین نے اظہار کیا کہ نیب کا کالا قانون صرف سیاسی انتقام ، سرکاری اہل کاروں اور کاروباری طبقے کو ہراساں کرنے کےلئے استعمال ہوتا رہا۔انہی قوانین کی وجہ سے بیوروکریسی فیصلے لینے سے ڈرتی ہے جس کی وجہ سے اہم ترین امور میں ملک کا نقصان ہو جاتا ہے۔

اعلامیہ کے مطابق کابینہ نے نیب ترامیم کیلئے وزیرقانون کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی۔اعلامیہ کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کابینہ کو سول سرونٹس (ڈائریکٹری ریٹائرمنٹ فرام سروس) رولز 2020 پر نظر ثانی کے حوالے سے قائم کمیٹی کی رپورٹ پیش کی۔

کابینہ نے وزارت خزانہ کی سفارش پر75 ویں یوم آزادی اور اسٹیٹ بینک کے قیام کی مناسبت سے یادگاری بینک نوٹ کے ڈیزائن کی منظوری دی ۔کابینہ کو آگاہ کیا گیا کہ مالی سال 22۔2021 ء کے پہلے 10ماہ میں برآمدات کا حجم 31.2 ارب ڈالررہا جبکہ درآمدات کا حجم 76.7 ارب ڈالر رہا۔اسی دورانئے میں برآمدات میں 4.95 ارب ڈالر کا اضافہ ہوا اور درآمدات میں 11.16 ارب ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

ایگرو بیسڈ صنعت کے فروغ ، فصلوں سے پیداوار بڑھانے اور ان کو برآمد کرنے کیلئے کابینہ نے خصوصی پالیسی ساز کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دی کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق کی۔ ان فیصلوں کے مطابق 52 ارب روپے پٹرولیم ڈویژن کے لئے مختص کئے گئے ہیں جبکہ خریف سیزن کے لئے جی ٹو جی بنیادوں پر ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کی جانب سے 2 لاکھ میٹرک ٹن یوریا کی درآمدکی اجازت دی گئی۔۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More