زرداری اینڈ کمپنی اور شریف خاندان کے مقدمات کا فیصلہ جلد کریں، فواد چوہدری

اسلام آباد : وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ نون کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف کے کیس کی براہِ راست سماعت ہونی چاہیے تاکہ لوگوں کو کیس کی تفصیلات معلوم ہوں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ شریف خاندان کی کمپنی کے چپڑاسی ملک مقصود کے اکاؤنٹ سے 4 ارب روپے نکلے۔مشتاق چینی والے کے نام سے اربوں روپے کی ٹی ٹیاں لگیں۔ شہبازشریف کا مقدمہ لائیوٹی وی چینلزپردکھانا چاہیے، لیگی صدر کے چپڑاسیوں کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے آئے۔

ان کا کہنا تھا کہ سابق وزیراعظم نوازشریف کہتے ہیں فلیٹس ان کے نہیں لیکن وہی رہتے ہیں اس سے بڑا کوئی مذاق نہیں۔ عدالتوں کوبلا خوف خطران کیسزکا فیصلے کرنے چاہئیں۔ شریف فیملی نے پہلے سجاد علی شاہ کے خلاف سازش کی تھی۔ یہ خاندان دوموٹوپرکام کرتا ہے ’’خرید لو یا ڈراؤ‘‘،رانا شمیم کیس میں بیان حلفی نواز شریف کے دفتر میں لکھا گیا جس کی تردید نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ قوم کا اربوں روپے لوٹا گیا۔ زرداری اینڈ کمپنی نے جو پیسے لوٹے قوم حساب چاہتی ہے۔ عدالت سے استدعا ہے ان کیسزکا فیصلہ کریں تاکہ لوگوں کوپتا چلے۔ شہبازشریف کیس کوروزانہ کی بنیاد پرسنا جائے۔ان کیسزکومنطقی انجام تک پہنچنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ افسوس ہے سندھ حکومت نے عوام کوصحت، راشن کارڈ جیسی سہولت نہیں دی۔ سندھ حکومت نے بااختیارلوکل گورنمنٹ میں بھی اپنا حصہ نہیں ڈالا۔ یہ لوگ اپنے بندے کے پاس رکھنا چاہتے ہیں۔ اومنی ا سکینڈل میں 5 ہزارجعلی اکاؤنٹس بنائے گئے تھے۔ اومنی سکینڈل میں 12 ارب روپے ریکور ہو گیا ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ 1947کا جوحال تھا ویسا پاکستان ہمیں ملا۔ فی کس آمدنی 1400 ڈالرسے بڑھ کر 1650 تک ہوگئی ہے۔پاکستان کی سوبڑی کمپنیوں نے 929 ارب کمائے۔پرائیویٹ کمپنیوں کوتنخواہ دارطبقے کی تنخواہیں بڑھانی چاہئیں۔ آج الحمد للہ پاکستان کی گروتھ 37۔5 فیصد ہے۔

انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے سے سننے میں آرہا تھا شہزاد اکبراستعفی دیں گے۔ سابق مشیر داخلہ نے بڑا زبردست کام کیا مشکل حالات میں ان کوایکسپوزکیا۔ شہزاد اکبرنے استعفی دیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More