پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کیا ہے، فواد چوہدری

اسلام آباد: وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔ اسٹے آرڈرز کے سبب حکومت کے کھربوں روپے پھنسے ہوئے ہیں۔ جس کی وجہ سے انتظامی بحران پیدا ہورہا ہے۔

وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے فواد حسین چوہدری کا کہنا تھا کہ یورپ امریکا تناؤ کی وجہ سےعالمی منڈی میں تیل مہنگا ہو رہا ہے۔ آخر ہم کتنی دیرتک پٹرول کی قیمتیں روک سکتے ہیں۔ ہمارے پاس بھی پیٹرول کی قیمت بڑھانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ کابینہ نے حکومت اور اعلیٰ عدلیہ کے مابین اہم ملکی امور پر مشاورت کرنے کے لیے فورم قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ فورم کی موجودگی میں اہم انتظامی امور میں غیر ضروری التواء کو ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ٹیکس کے مقدمات، سرمایہ کاری، انتظامی تعیناتیوں پر اسٹے آرڈر جیسے اہم مقدمات کی وجہ سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان اُٹھانا پڑتا ہے۔ ہمیں ہر ماہ 150 سے زائد اسٹے آرڈر کا سامنا ہے۔ اس وقت ایف بی آر کے 3 ہزار ارب روپے اور ریگولیٹری اتھارٹیز کے 250 ارب روپے کے مقدمات مختلف عدالتوں میں زیر التواء ہیں۔ اگر اسٹے آرڈرز کی مدت متعین کردی جائے تو ملک و قوم کا فائدہ ہوگا۔

فواد چوہدری کا مزید کہنا تھا کہ کابینہ نے اہم شخصیات بالخصوص خواتین کے خلاف سوشل میڈیا پر گھٹیا الزامات لگانے کے سلسلے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اور زور دیا ہے کہ اس کے تدارک کے لیے قانون سازی کی جائے۔ 2018ء سے کہہ رہا ہوں فیک نیوز پاکستان کا بڑا مسئلہ ہے۔ اقوام متحدہ بھی فیک نیوزکے خلاف قرارداد پاس کر چکی ہے۔ خواتین کے خلاف پیپلز پارٹی نہیں نون لیگ گند اچھالتی ہے۔ مریم نواز کو خواتین کے خلاف کمپین کو سپورٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ سوشل میڈیا کے حوالے سے اب سخت قوانین بنائے جائیں گے۔

اپوزیشن سے متعلق بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن تین سال میں 13 بار حکومت ہٹانے کی کوشش کرچکی ہے۔ مولانا فضل الرحمان، شہباز شریف، مریم ، بلاول بھٹو میں حکومت ہٹانے کی سکت نہیں ہے۔ یہ اپنے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ ن لیگ 6، پیپلزپارٹی 5 ڈویژن کی پارٹی ہے۔ ان کے اکٹھے کا مقصد اپنے مقدمات سے توجہ ہٹانا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More