رات کی تاریکی میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرکے خود کش حملہ کیا گیا،فرخ حبیب

اسلام آباد :پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات فرخ حبیب نے کہاہے کہ رات کی تاریکی میں پٹرول کی قیمت میں اضافہ کرکے خود کش حملہ کیا گیا، تین ہفتوں میں ڈیزل کی قیمتوں 123 روپے اضافہ کیا گیا، پٹرول کی قیمت میں 86 روپے اضافہ کیا گیا، انہوں نے کہاکہ پچھلے دو ماہ سے عوام کیلئے مشکلات لا رہے ہیں، عوام کی تکالیف میں یہ حکومت اضافہ کررہی ہے۔

پی ٹی آئی رہنما فرخ حبیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ20 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے ہیں، یہ حکومت، غریب، مزدور اور کسان کش حکومت ہے، یہ ملک میں تباہی اور بربادی کرنے آئی ہے ، فرخ حبیب نے کہاکہ 60 دن کے اندر ملک کو کوئی فائدہ نہیں، اس حکومت کی سمت واضح طور پر نظر نہیں آرہی، اپوزیشن میں کہتے تھے عمران خان مہنگا پٹرول دے رہے ہیں، حکومت میں آکر یہ کہہ رہے ہیں عمران خان سستا پٹرول دے رہا تھا، یہ کیسی منافقت ہے، انہوں نے کہاکہ عمران خان کو غریب عوام کی فکر تھی، یہ کہتے ہیں عمران خان نے 300 ارب کا معاہدہ کیا تھا، کیا آپ وہ معاہدے پورے کرینگے، اتنے معصوم آپ ہیں نہیں، آپ نے آکر 84 روپے اضافہ کیا، پاکستان کی تاریخ میں اتنا اضافہ نہیں ہوا، خدا کا خوف کرو، خود اے سی والے روم میں بیٹھے۔

فرخ حبیب نے کہاکہ ایم کیو ایم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہاں گئی آپ کی رابطہ کمیٹی، کہاں گئی باپ پارٹی ، کہاں گئے ق لیگ کے دو وزیر جو اب کابینہ میں بیٹھے ہیں، فرخ حبیب نے کہاکہ عمران خان نے ملک کی مفاد میں روس کا دورہ کیا تھا، امریکی وزیر خارجہ کو بھارتی وزیرخارجہ نے ان کے منہ پر کہاں ہم روس سے تیل لیں رہے ہیں، اگر یہ سازش ناکام ہوتی تو آج پٹرول مہنگا نہ ہوتی، آج روس سے پٹرول آچکا ہوتا، پی ٹی آئی رہنما نے کہاکہ کابینہ میں سارے نمونے بٹھائے ہیں جن کو الف ب کا نہیں پتہ، اگلے مہینے بجلی کے جو بل آئیں گے عوام ادا نہیں کرسکیں گے، آج کسان کیلئے فصل کاشت کرنا مشکل ہوگیا ہے، ٹیسکٹائل کا سیکٹر نیچے جارہاہے، پچھلے مہینے ایکسپورٹ 10 فی صد کم ہوئے ہیں، ترسیلات زر 25 فی صد کم ہوئی، 19۔فی صد برآمدات کم ہوئے، یہ کیسی شہباز اسپیڈ ہے کہ 12 گھنٹے لوڈشیڈنگ میں اضافہ کیا، شہباز اسپیڈ نے گھی آٹا چینی مہنگی کردی، آج ان کو ہوش نہیں ، ان کو این آر او ٹو کی فکر ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More