فیصل آباد میں خواتین پر تشدد، اصل حقیقت سامنے آگئی

فیصل آباد: پنجاب کے شہر فیصل آباد میں خواتین پر تشدد کے واقعے کی اصل حقیقت سامنے آگئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ خواتین ناصرف بھکارنیں ہیں بلکہ بلیک میلر بھی ہیں، کئی ماہ سے دکانوں میں گھس کر دکانداروں کو ہراساں کرتی تھیں، خواتین بات نہ ماننے پر کبھی دوپٹے اتاردیتی تھیں اور کبھی کپڑے پھاڑ لیتی تھیں۔

واقعے کے روز الیکٹرک اسٹور کے باہر لگے ایک کیمرے کی فوٹیج کے مطابق چار خواتین بھیگ مانگتے ہوئے اسٹور میں داخل ہوئیں، باہر ایک نوجوان بھی موجود ہے، چند لمحے بعد دکاندار خاتون کو پکڑنے کے لیے باہر نکل کر دروازہ بند کردیتا ہے۔ خواتین جیسے ہی اسٹور میں داخل ہوئیں اور ایک گودام کی طرف بڑھی جس پر دکان میں موجود لڑکے نے روکنا چاہا، فقیرنی کا دوپٹہ ہاتھ میں آیا، فقیری دوپٹہ چھوڑچھاڑ کر اندر گودام میں چلی گئی، نوجوان ٹیبل پھلانگ کر باہر نکل آیا جس کے بعد باقی خواتین بھی سامان چرانے لگ گئیں۔

دوسری جانب سی پی او فیصل آباد کا کہنا ہے کہ آڈیو کی بنیاد پر ہم نے لوگوں کو حراست میں لیا ہے، آڈیو میں ملزم نے خواتین کو بے لباس ہونے کا کہا تھا۔

سی پی او فیصل آباد کا کہنا ہے کہ ویڈیوز کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے، متاثرہ خواتین پولیس سے رابطے میں ہیں، ویڈیوز میں خواتین پر تشدد کرتے بھی دیکھا جاسکتا ہے، تمام ویڈیوز کا جائزہ لے کر تحقیقات کی جارہی ہیں۔

واضح رہے کہ پولیس نے خواتین پر تشدد کے الزام میں گزشتہ روز 5 افراد کو گرفتار کیا تھا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More