ایس ایم ایزسیکٹرکے لیے آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں، عمران خان

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کی نئی لہر آرہی ہے تاہم کاروبار بند نہیں کریں گے۔ ایس اوپیزپرعمل کریں گے۔

نیشنل ا سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائززپالیسی2021کا افتتاح کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ نوجوانوں میں کچھ کرنے کا زیادہ جنون ہوتا ہے۔حکومت کا کام نوجوانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنا ہے۔ چھوٹا کاروبارکرنے والوں کو بینک قرضے نہیں دیتے۔حکومت کاروبارکرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا کررہی ہے۔ ایس ایم ایزسیکٹرکے لیے آسانیاں پیدا کی جارہی ہیں۔ بدقسمتی سے کسی نے چھوٹا کاروبارکرنے والوں کے لیے آسانیاں پیدا نہیں کی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ایس ایم ایزکی راہ میں تمام رکاوٹوں کودورکریں گے۔ایس ایم ایزکوسہولیات دیں گے توجی ڈی پی میں اہم رول ادا کرسکتے ہیں۔ کاروبارکی راہ میں تمام مشکلات کوختم کریں گے۔ریگولیشن،این اوسی جیسے مسائل کوکم کرتے جا رہے ہیں۔ انسپیکشن بھی پیسہ بنانے کا ایک طریقہ بن چکا، آن لائن چیزیں کرنے سے مشکلات کم ہوں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہماری حکومت جتنا چیلنج کسی حکومت کونہیں تھا۔ اقتدارسنبھالا توملک دیوالیہ ہونے کا خطرہ تھا۔ چین، سعودی عرب نے ہماری مدد کی۔ملک کودیوالیہ ہونے سے بچایا تو صدی کا سب سے بڑا کورونا آ گیا۔ دنیا نے پاکستان کی کورونا پالیسی کو سراہا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے پاکستان میں ایکسپورٹ بڑھانے پر زورلگانا ہے جوبھی محکمہ ایکسپورٹ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے گا ایکشن لیں گے۔ سنگاپورکی ایکسپورٹ پاکستان سے زیادہ ہے۔سنگاپورکی300ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہے۔ ملائیشیا بھی ہم سے آگے نکل گیا۔ 1960میں پاکستان تیزی سے ترقی کررہا تھا۔ غلط فیصلوں کی وجہ سے پاکستان نیچے جانا شروع ہوگیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ نہیں ہو سکتا 22 کروڑ میں سے صرف 20 لاکھ لوگ ٹیکس دیں۔ سب کوٹیکس دینا ہوگا۔ جب اقتدار سنبھالا تو 8 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرنے کا اعلان کیا تو بڑا مذاق اڑایا گیا۔ اس وقت 6 ہزارارب ٹیکس اکٹھا کر چکے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More