الیکشن کا فیصلہ فوج نے نہیں سیاست دانوں نے کرنا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: افواج پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا ہے کہ پاکستان کی عوام اپنی مسلح افواج سے محبت کرتے ہیں۔مسلح افواج کا کردارعوام کے لیے ہمیشہ اچھا رہے گا۔مسلح افواج اورعوام کے کردارمیں کسی قسم کی دراڑنہیں آسکتی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پچھلے چند دنوں میں تمام سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ نے مسلح افواج کی لیڈرشپ کے خلاف بیانات دیئے۔بارباردرخواست کی ہےمسلح افواج کوسیاسی گفتگوسے باہر رکھیں۔ہمارے سیکیورٹی چیلنجز اتنے بڑے ہیں کہ ہم ملک کی سیاست میں شامل نہیں ہوسکتے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ اگرملک کی حفاظت کے اندرکوئی بھول،چونک ہوئی تومعافی کی گنجائش نہیں۔اگرکوئی سمجھتا ہے کہ فوج کے اندرتقسیم ہوسکتی ہے تواس کوفوج کے بارے پتا ہی نہیں۔پوری فوج ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔فوج اپنے آرمی چیف کی طرف دیکھتی ہے۔کسی کوکوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی فوج کے اندرتقسیم پیدا کرسکتا ہے۔ واضح کردوں جائز تنقید سے پرابلم نہیں ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ فوج کے اندرکسی بھی رینک میں کمانڈ کا عہدہ اہم ہوتا ہے۔کسی بھی کورکی کمانڈ آرمی چیف کے بعد اہم عہدہ ہوتا ہے۔ہماری ستر فیصد فوج ڈپلائمنمنٹ ہے۔مختلف جہگوں پرکاؤنٹرٹیررازم آپریشن کررہے ہیں۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہم نے بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ جلد الیکشن کا فیصلہ سیاست دانوں نے کرنا ہے،فوج کا کوئی کردارنہیں۔سیاست دان اس قابل ہیں وہ بیٹھ کربہترطریقے سے فیصلہ کرسکتے ہیں۔جب بھی فوج کوکسی سیاسی معاملے میں بلایا گیا تومعاملہ متنازع ہوجاتا ہے۔الیکشن کے دوران سیاست دان فوج کوسیکیورٹی بلائیں گے تواپنی خدمات پیش کریں گے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ فوج کبھی بھی سیاست دانوں کوملاقات کے لیے نہیں بلاتی تاہم جب فوج کودرخواست کی جاتی ہیں توپھرآرمی چیف کوملنا پڑتا ہے۔اس حوالے سے ساری کی ساری ذمہ داری سیاست دانوں پرہوتی ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے دوروں کواوپن نہیں کیا جاتا ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی کے دورے بیک گراؤنڈ چلتے رہتے ہیں۔تمام ممالک کے انٹیلی اجنس چیف کے ساتھ ملاقات اور انٹیلی انجس شیئرنگ ہوتی ہے۔ایسے معاملات میں کوئی ابہام پیدا نہیں کرنا چاہیے۔اس طرح کے بیانات سے ادارے کا مورال متاثرہوتا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار کا کہنا تھا کہ آفیسراورجوان ایک ہیں۔ہماری لیڈر شپ کا معیاربہت اعلیٰ ہیں۔ہمارے جوانوں کواپنے آرمی چیف،کمانڈرپریقین ہوتا ہے۔فوج کے ہررینک نے شہادتیں دی ہے۔لیڈرشپ پرتنقید کرنے سے ہر فوجی متاثر ہوتا ہے۔فوج کا سینٹرآف گریویٹی آرمی چیف ہوتا ہے۔بلاوجہ آرمی چیف کے عہدے پرتنقید کے منفی اثرات ہوتے ہیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More