الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت

اسلام آباد: الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت،چیف الیکشن کمشنر نے آئندہ سماعت پر فریقین کو رپورٹ پر دلائل دینے کی ہدایت کردی۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات فرخ حبیب نے کہا صرف پی ٹی آئی وہ واحد جماعت ہے جس نے شفافیت کو ملحوظ خاطر رکھا ہے۔

الیکشن کمیشن میں پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس کی سماعت ہوئی، پی ٹی آئی کی جانب سے سابق اٹارنی جنرل انور منصور اوردرخواست گزار اکبر ایس بابر بھی وکیل کے ہمراہ پیش ہوئے۔ پی ٹی آئی کے وکیل انور منصورکا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے سیاسی جماعتوں کی اسکروٹنی خوش آئند ہے۔ یہ اور بات ہے کہ پی ٹی آئی کی پہلے کر لی گئی۔ اس اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ میں کئی خامیاں ہیں۔ رپورٹ میں بہت سے اعداد و شمار کی سمجھ نہیں آرہی کہ کہاں سے آئے۔

اسکروٹنی کمیٹی کے سربراہ اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ ایک ممبر کی ریٹائرمنٹ کے باعث اسکروٹنی کمیٹی غیر فعال ہو گئی ہے۔ پی پی پی اور ن لیگ کا کیس بھی اسی نوعیت کا ہے۔ جس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ اسکروٹنی کمیٹی کی تشکیل نو کر دی جائے گی۔ چیف الیکشن کمشنر نے آئندہ سماعت پر فریقین سے رپورٹ پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت یکم فروری تک ملتوی کردی ۔

الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوءے وزیر مملکت اطلاعات فرخ حبیب نے اکبر ایس بابر کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا بولےاکبر ایس بابر ن لیگ کے ایزی لوڈ پر یہ سب کر رہے ہیں۔ انہوں نے چائے کی پیالی میں طوفان برپا کیا ہوا ہے۔ فرخ حبیب نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ سمیت بقیہ تمام جماعتوں کی فنڈنگ کا بھی حساب ہونا چاہیئے۔ مولانا فضل الرحمن کا بھی پتہ چلنا چاہیئے کہ وہ لیبیا سے کس چکر میں فنڈنگ لیتے رہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More