تازہ ترین
گونگے بہرے اور اندھے حکمران

گونگے بہرے اور اندھے حکمران

کراچی قیام پاکستان کے کافی عرصے بعد تک پڑھے لکھے معاشرتی اور سماجی طور پر باشعور شہریوں کا عرس و الباد کہلاتا تھا ملک بھر سے غیر تربیت یافتہ اور تعلیم سے بے بہرہ لوگ کراچی کی بندرگاہ انگریزوں کے سامنے سے اپنے اندر کشش رکھتی تھی۔

صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے عوام کے لئے ان کے آبائی علاقوں کے مقابلے میں کراچی میں محنت مزدوری کرکے روٹی روزی کمانے کے زیادہ مواقع تھے۔ جن لوگوں نے کراچی کی تعمیر و ترقی کو قریب سے دیکھا ہے وہ گواہی دیں گے کہ اس شہر کو جدید ترین عمارات اور بہترین سڑکوں سے مزیں کرنے کا سہرا خیبرپختونخوا کے محنت کش مزدوروں کے خون کی مرہن منت ہے۔ ساحلی پٹی پر واقع کچی آبادیوں میں آج بھی ایسے بزرگ موجود ہوں گے جنہوں نے شہر کراچی کو دنیا کے صاف ترین شہر بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ آج یہی ساحلی پٹی جس میں لاکھوں افراد آباد ہیں فضا میں پھیلی ہوئی زہریلی گیس کے نتیجے میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں لیکن ہمارے موجودہ صوبائی اور وفاقی حکمران چین اور آرام کی بانسری بجا رہے ہیں۔

کراچی بندرگاہ دنیا کی مصروف ترین پورٹ ہیں، یہی وجہ ہے کہ کیماڑی کو پاکستان کا آبی دروازہ کہا جاتا ہے، اربوں روپے آمدنی دینے والا یہ علاقہ قیام پاکستان سے اب تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، یہاں تک کہ بحری جہازوں کے ذریعے آنے والے ہزاروں ٹن کیمیکل سے لدے جہازوں سے شہر کے گودام تک منتقل کرنے کا کوئی حفاظتی نظٓام موجود نہیں ہے، ملک کے اندھے گونگے بہرے حکمرانوں کی نااہلی اور اہم ملکی معاملات سے غفلت اور کوتاہی کا نتیجے قوم گزشتہ تیس چالیس سالوں سے تواتر کےساتھ مختلف سانحات اور حادثات کی شکل میں بھگت رہی ہے، گزشتہ کراچی کے ساحلی علاقے کیماڑی کی کچی آبادی شیریں جناح کالونی، مسان روڈ، ریلوے کالونی اور اس ملحقہ علاقوں میں پراسرار زہریلی گیس نے فضا کو آلودہ کررکھا ہے جس کے نتیجے میں ایک درجن سے زائد اموات اور سیکڑوں کی تعداد میں لوگ آنکھ، ناک، کان، گلے اور سینے کے امراض میں مبتلا ہوکر زیر علاج ہیں، ہمارے ماضی اور قریب کی غلطیوں میں سے سب سے بڑی غلطی حکمرانوں کی طرف سے ساحلی علاقے میں گیس کے ممکنہ اخراج سے آنکھیں بند رکھنا ہے، ایک زمانے میں کیماڑی کی بندرگاہ ملک کی واحد بندرگاہ تھی جہاں پورے ملک کی پٹرول اور گیس کی ضروریات اسی بندرگاہ سے درآمد کی تھیں، پٹرول اور گیس کو ذخیرہ کرنے کے لئے بڑے بڑے آئل ٹرمینلز ساحل پر قائم کئے گئے تھے جس وقت یہ ٹرمینلز بنائے جارہے تھے اس وقت بھی مستقبل پر نگاہ رکھنے والوں نے خبردار کیاتھا کہ یہ ٹرمینلز کسی وقت بھی شہر کی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں لیکن اس وقت محدود مالی وسائل ہونے کی وجہ سے کسی بھی حکومت نے اس پر توجہ نہ دی، گزشتہ ستر سالوں سے آج تک اندرون ملک خام پٹرول کی سپلائی ان ٹرمینلز سے ٹرکس کے ذریعے جاری ہے۔

پہلی مرتبہ خام پٹرول اور گیس کے ذخیرہ گاہوں کی کھلی جگہ پر آبادیوں سے ملحقہ ہونے کے خطرات کا احساس اس وقت بھی نہیں کیا گیا جب 1984 میں پھوپال ٹریجنڈی نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھا دیا تھا اسی زمانے میں کراچی کے دو شام کے اخبارات (ایوننگ اسپیشل اور ڈیلی اسٹار) نے کراچی میں جہازوں کے ذریعے سپلائی ہونیوالے خام تیل اور ان کی ذخیرہ گاہوں پر مبنی ایک جامع رپورٹ شائع کی جس میں واضح طور پر بتایا گیا کہ آئل ٹرمینلز انتہائی غیر محفوظ ہیں پھوپال واقعے سے قبل 1971 کی پاک بھارت جنگ کے دوران بھارت نے پاکستان کی فعال بندرگاہ کراچی اور اس کے ساحل پر واقع تیل کے ذخیرہ کو اپنا نشانہ بنایا بھارتی بمباری کے نتیجے میں ساحلی پٹی پر واقع تمام آئل ٹرمینلز میں خوفناک آگ بھڑک اٹھی جس پر تقریباً ایک سے ڈیڑھ ماہ تک قابو نہ پایا جاسکا جس کی وجہ سے کئی دنوں تک بندرگاہ پر جہازوں کی آمدروفت بھی معطل رہی۔

قومی سلامتی اور تیل کی سپلائی کی ضروریات کو پورا کرنے کی غرض سے 1971 کی جنگ سے آج تک برسر اقتدار آنیوالی کسی بھی حکومت نے سنجیدگی کے ساتھ قومی اور فوجی نوعیت کے مسئلے پر کوئی توجہ نہیں دی، کیماڑی سے اندرون ملک زیر زمین پائپ لائنز کے ذریعے خام تیل ریفرنری تک پہنچایا جارہا ہے لیکن یہ ہماری ملکی ضروریات کےلئے انتہائی ناکافی ہے یہی وجہ ہے کہ کراچی کے آئل ٹرمینلز سے روزانہ کی بنیاد پر سیکڑوں کی تعداد آئل ٹینکرز ڈیزل اور پٹرولیم منصوعات ملک کے کونے کونے میں پہنچانے میں مصروف ہیں۔ سانحہ پھوپال کے بعد کراچی کی صورتحال پر نیشنل پریس ٹرسٹ کے تحت شائع ہونےوالے اخبار ایوننگ اسپیشل اور دوسرے روز انگریزی نیوز پیپر ڈیلی اسٹار نے تفصیل کے ساتھ خبر شائع کی اور ان خامیوں کی نشاندہی کی جس میں کراچی کے صنعتی علاقوں میں استعمال ہونیوالی مہلک گیس اور آئل ٹرمینلز کے غیر محفوظ ہونے کی جامع رپورٹ حکومت کی رہنمائی کے لئے شائع کی گئی تھی۔ اس زمانے میں سید غوث علی شاہ سندھ کے وزیراعلیٰ اور محکمہ اطلاعات سندھ کے سیکریٹری شاہ جہان کریم تھے جنہوں نے ایوننگ اسپیشل کی خبر کو سنسنی خیز اور عوام میں خوف وہراس پھیلنے کی سازش قرار دیا، شاہ جہان کریم نے ایوننگ اسپیشل کے ایڈیٹر(علی اختر رضوی) کےساتھ نامناسب الفاظ میں دھکمیاں آمیز لہجے میں وضاحت طلب کی ان کا خیال تھا چونکہ ایوننگ اسپیشل سرکاری ملکیت کے تحت ہے نیشنل پریس کلب کے اخبار کے ایڈیٹر کو دھمکیاں دے کر راہ راست پرلایا جاسکتا ہے اور وہ معافی تلافی مانگ کر اپنی جان چھڑوانے کی کوشش کریگا لیکن میرے ساتھ سرکاری سطح پر معاملات ہمیشہ مختلف رہے ہیں، شاہ جہان کریم سے ٹیلیفونک گفتگو نے معاملے کو مزید سنگین بنادیا جس پر شاہ جہان کریم نے وزیراعلیٰ سندھ غوث علی شاہ کو حقائق کے برخلاف ایڈیٹر ایوننگ اسپیشل کی شکایات کی اور اخبار کو فوری طور پر بند کرنے اور ایڈیٹر ایوننگ اسپیشل (علی اختر رضوی) کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین نیشنل پریس ٹرسٹ ضیا الاسلام انصاری کو رات گئے جب اس تمام واقعے کا علم ہو تو انہوں نے براہ راست صدر مملکت جنرل ضیا الحق سے اس معاملے پر تفصیلی گفتگو کی، جنرل ضیا الحق جو اس اخبار کو اپنا اخبار قرار دیتے تھے انہوں نے صوبائی حکومت کو تمام احکامات پر عملدرآمد سے روک دیا اور وفاقی سیکریٹری اطلاعات جنرل مجیب الرحمٰن کو ہدایت کی کہ وہ صبح کراچی پہنچ کر معاملے کو مستقل طور پر حل کریں۔

سانحہ کیماڑی میں ایک درجن سے زائد جاں بحق جبکہ سیکڑوں افراد مختلف امراض کا شکار ہوکر زندگی اور موت کی کشمکش سے دو چار ہیں، یہ پتھر کی طرح اٹل اور حقیقت ہے کہ بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے وہ پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں سے بھی خوف زدہ ہے لیکن جہاں تک کراچی کے دفاعی حصار کا تعلق ہے تو ہمیں احساس کرنا چاہئے کہ ہمارے ساحلی علاقے کس حدتک 1970 کے مقابلے میں محفوظ ہیں لیکن ہماری اس سے بڑھ کر اور کیا بدقسمتی ہوسکتی ہے کہ سانحہ کیماڑی کو رونما ہوئے کئی دن ہوچکے ہیں لیکن ہم ابھی تک یہ پتہ نہیں چلاسکے کہ یہ گیس کونسی ہے اور کہیں یہ سازش کا نتیجہ تو نہیں ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top