تازہ ترین
سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ اور ویکیسن کی معدومیت

سندھ میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں اضافہ اور ویکیسن کی معدومیت

کراچی: (رپورٹ : زین علی)کراچی کے علاقے سرجانی ٹاؤن میں رہائش پذیر 46 سالہ درزی محمد سلیم کتے کے کاٹنے کی وجہ سے اپنی زندگی کی بازی ہار گیا، اس کے بھائی محمد عامر نے بتایا کہ سلیم کی چار سالہ بیٹی پرآوارہ کتے نے حملہ کیا جسے بچانے کی کوشش میں کتے نے محمد سلیم کے دونوں ہاتھوں پر کاٹ لیا۔

محلے والے سلیم کو فوری طور پر سندھ گورنمنٹ اسپتال نیو کراچی لے کر گئے وہاں ویکسین موجود نہ ہونے کی وجہ سے اسے عباسی شہید اسپتال لے جایا گیا،لیکن وہاں بھی ویکسین نہیں ملی جبکہ جناح اسپتال کی سینئر ایگزیکٹو ڈائریکٹر سیمی جمالی کے مطابق محمد سلیم کو بروقت طبی امداد فراہم نہیں کی گئی اور ایک ماہ بعد جناح اسپتال میں داخل کرایا گیا،محمد سلیم اسپتال منتقلی کے وقت سے ہی نیم بیہوشی میں تھے جو بعد میں انتقال کر گئے۔

اسی طرح ایک اور متاثرہ شخص محمد عامر کا کہنا تھا کہ ڈاکٹرز کی ہدایت پر باہر میڈیکل اسٹورز سے دوائی منگوائی گئی اور اسے طبی امداد دیکر گھر روانہ کردیا گیا، اس واقعے کے چالیس دن بعد اسے جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر لے جایا گی، جہاں چیک کے اپ کے بعد ڈاکٹروں نے اس کا اندازہ لگایا کہ اسے ریبیز کی ویکسین مکمل طور فراہم نہیں کی گئی۔ڈائریکٹر جناح اسپتال ایمرجنسی ڈاکٹرسیمی جمالی کے مطابق روزانہ کی بنیاد پرکتے کے کاٹنے کے 30 سے 40 کیسز جناح اسپتال میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ شہر میں مخصوص اسپتالوں کے پاس ہی ویکسین کی سہولت ہے، ڈاکٹر سیمی کا کہنا ہے کہ اینٹی ریبیز ویکسین باہر سے ہی امپورٹ ہوتی ہے، جناح اسپتال چین میں تیار ہونے والی ویکسین استعمال نہیں کرتا۔

انڈس ہسپتال کے ریبیز پروگرام کے کوآرڈینیٹر آفتاب گوہر کا کہنا ہے کہ ہر روز یہاں سندھ سے کتے کے کاٹنے کے 40 سے 50 مریض آرہے ہیں کیونکہ وہاں اس علاج کی بنیادی سہولیات موجود نہیں ہیں، لاک ڈاون کی صورت حال کیسز میں کمی ضرور ہوئی ہے لیکن اب بھی 25 سے 30 کیسز رپورٹ ہورہے ہیں، کراچی کے کئی اسپتال مریضوں کو ہمارے پاس ریفر کرتے ہیں۔

ڈاکٹر سیمی کے مطابق پاکستان نے بھی ویکیسن بنانے کی کوشش کی تھی کچھ عرصہ استعمال بھی کی ہے لیکن فارمیٹس پر سختی سے عمل درآمد نہ ہونے کی وجہ اب ویکسین مقامی سطح پر تیار نہیں ہورہی ہیں،گزشتہ پندرہ سال سے بھارت سے ہی ویکسین منگوائی جارہی ہے، اب بھی کراچی کے چند اسپتالوں میں ویکسین موجود ہے۔ڈاکٹر سیمی جمالی کا کہنا ہے کہ پہلے تو کراچی کے دور دراز علاقوں سے مریض آتے تھے لیکن اب کراچی کی گنجان آبادی سے بھی مریض آرہے ہیں،یہ مریض بتاتے ہیں کہ ان کے علاقوں میں گلی محلوں میں موجود کتوں کی تعداد میں انتہائی اضافہ ہوچکا ہے۔

کراچی کے تین بڑے اسپتالوں کے مطابق ان کے پاس اس وقت روزانہ اوسطاً 150 تک مریض ریبیز سے بچاؤ کے انجیکشن اور ویکسین کے لیے آرہے ہیں۔

صوبے بھر میں محکمہ صحت سے تعلق رکھنے والے افراد اس بات پر متفق ہیں کہ اسپتالوں میں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور امیون کلوبلن انجیکشنز کی کمی ہے مگر محکمہ صحت سندھ کے مطابق کراچی سمیت سندھ بھر کے اسپتالوں میں ریبیز ویکسین کی کمی نہیں ہے۔

وزارت صحت کے ترجمان ساجد شاہ نے اب تک کو موقف دیتے ہوئے کہا کہ قومی ادارہ صحت اسلام آباد میں ریبیز ویکسین تیار کررہے ہیں، اس کے علاوہ تمام صوبوں کو اختیار دے دیا ہے کہ اپنی مانگ کے مطابق درآمد کرسکتے ہیں،تاہم اس کی پیداوار ابھی کم ہے مگر جلد ہی اس کو زیادہ کر دیا جائے گا۔ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) سمیت دیگر اداروں کے افسران نے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین پر بات کرنے سے معذرت کی ہے،شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ویکسین امپورٹر نے بتایا کہ پاکستان میں 95 فیصد ویکسین بھارت اور چین سے درآمد کی جاتی ہے، کیونکہ ملک کی ادویہ ساز کمپنیوں میں فی الحال اتنی صلاحیت نہیں کہ وہ اس حساس ویکسین کو بڑے پیمانے پر تیار کرسکیں۔

 رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سالانہ 15 سے 18 لاکھ ویکسین کی مانگ ہے،جبکہ 5 سے 7 لاکھ کے قریب ویکسین پاکستان پہنچ رہی ہے،ویکسین کی کمی کی مختلف وجوہات ہیں جن میں حکومت کی جانب سے بر وقت مناسب پالیسی نہ بنانا اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ سمیت دیگر معاملات شامل ہیں۔

ڈاکٹر محمد غفران چشتی ایم آئی اسپتال مطابق ریبیز سے متاثر ہوجانے والے مریض کو کچھ سال پہلے تک پیٹ میں 14 انجیکشن لگائے جاتے تھے جو بہت زیادہ تکلیف دہ تھا مگر اب ریبیز سے بچاؤ کا ٹیکوں کا کورس ہی کافی ثابت ہوتا ہے۔ڈاکٹر غفران نے بتایا کہ عموماً چھ سے سات دن تک دیکھا جاتا ہے کہ اگر کاٹنے والا کتا مرجائے تو اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس میں ریبیس موجود تھا، لیکن اگر آوارہ کتے کاٹے تو فوری طور پر صابن سے اچھے طریقے سے دھو دیا جائے اور پھر اسکے فورا بعد اسپتال جایا جائے تو ریبیز سے بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ڈاکٹر غفران کا کہنا تھا کہ جب بھی دیکھیں کہ کتا پانی نہیں پی رہا،کچھ کھا نہیں رہا،وہ سست ہوچکا ہے یا وہ سر مختلف طریقے سے ہلا رہا ہے اور عجیب حرکتیں کررہا ہے تو پھر فوراً محسوس کرلینا چاہیے کہ وہ خطرناک ہوچکا ہے۔اس سلسلے میں آفتاب گوہر کا کہنا ہے کہ 2018 میں ریبیز کے بچاؤ کے لیے پروگرام کا آغاز کیا تھا شہر کے کچھ علاقے ابراہیم حیدری ، کورنگی ، لانڈھی اور لیاری میں پندرہ ہزار آوارہ کتوں کو ویکسین دی گئی جس کے نتائج بہت بہتر نظر آئے۔

آفتاب گوہر کے مطابق ریبیز کی ابتدائی علامات میں بخار، زخم کے اردگرد سنسناہٹ، بے قابو اشتعال، جسم کے اعضا ہلانے میں مشکلات اور ہوش کھو دینا شامل ہیں،مریض پانی کو دیکھ کر ڈر جاتے ہیں کیونکہ ریبیز کے جراثیم سے دماغ کی رگیں متاثر ہوچکی ہوتی ہیں، اس کے علاوہ کئی مرتبہ ریبیز سے نمٹنے کے لیے تربیت یافتہ عملے کا نہ ہونا بھی مسائل پیدا کرتا ہے اور علاج معالجے میں 24 گھنٹے کی تاخیر انتہائی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پڑوسی ممالک نے اس بیماری پر کامیابی سے قابو پایا ہے،ایران اور سری لنکا کے طرز پر کام کیا جائے تو اس میں بہتر نتائج آسکتے ہیں،یہ ایک طویل دورانیے کا کام ہے،اس میں ناصرف انتظامیہ بلکہ عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔

آفتاب گوہر کا مزید کہنا تھا کہ کتے کے کاٹنے کو نظر انداز نہ کریں بکہ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اس کا علاج کروائیں،رخم کے مقام سے دماغ تک وائرس کے پہچنے کے بعد اس کا علاج ناممکن ہے، لیکن اگر فوری طور علاج کروایا جائے تو یہ بیماری قابل علاج ہے۔

آفتاب گوہر کے مطابق گذشتہ چند سالوں سے ربییز سے بچاؤ کی ویکسین مختلف ناموں سے پاکستان کی مارکیٹ میں موجود تھی،پہلے اس کی کمی اس لیے نہیں ہوتی تھی کہ یہ بھارت سے درآمد کرکے مارکیٹ تک پہنچائی جاتی تھی لیکن گزشتہ برس بھارت میں مقامی سطح پر مانگ بڑھنے کی وجہ ایک بھارت نے ایک سرکلر جاری کیا جس میں ویکسین بنانے والی کمپنیوں کو پابند کیا کہ ویکسین کی پہلے مقامی سطح پر مانگ کو پورا کیا جائے اسکے بعد ایکسپورٹ کی جائے۔

پاکستان کی مارکیٹ بھارت کے مقابلے میں محض دس فیصد ہی ہے، اس کے علاوہ بھارت کے پاس ملائیشیا ، ویتنام اور انڈونیشیا سمیت دیگر ممالک کی مانگ بھی موجود ہے، جو پاکستان کے مقابلے میں بہتر قمیت ادا کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ زیادہ تر مریض اور سرکاری اسپتال مارکیٹ سے خرید کر اس کی ضرورت پوری کرتے تھے،اس کے مختلف برانڈز کی قیمت 700 سے لے کر 900 روپے تک ہوتی تھی۔

ڈبلیو ایچ او کی سرٹیفائیڈ ویکسین کی قیمت تقریبا 1800 روپے ہے، لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ ویکسین 7 سے 8 مریضوں کو لگائی جاسکتی ہے،جبکہ 900 روپے میں حاصل کی جانے والی ویکسین ایک مریض کو ہی لگائی جاسکتی ہے۔پاکستان میں ویکسین کو ٹیسٹ کرنے کا ایسا نظام بھی موجود نہیں ہے کہ جس پر اس بات کا اندازہ لگایا جاسکے کہ سستے دام ملنے والی ویکسین کس حد تک کار آمد ہے۔

کراچی میں اس حوالےسے شہر کے سب سے بڑے ضلع وسطی میں آوارہ کتوں کی نس بندی اور ریبیز سے بچاؤ کے لیے پروگرام کا آغاز کیا گیا تھا،لیکن وہ بھی چند روز میں بند کردیا گیا۔

چئیرمین ضلع وسطی ریحان ہاشمی کا کہنا ہے کہ حکومت سندھ اور ایک این جی او کی جانب سے لیکن صوبائی حکومت کی جانب شروع ہونے والا پروگرام چند دن میں ہی بند کردیا گیا، سندھ حکومت کی جانب سے طے شدہ ویکسیز فراہم نہیں کی گئی اس کے علاوہ ساؤتھ افریقہ سے آئے ٹرینر نے بلدیہ وسطی کے عملے کو تربیت بھی دی لیکن پروگرام دیر پا ثابت نہ ہوسکا۔

لیاقت علی خان ایڈوکیٹ سندھ ہائی کورٹ کے مطابق پاکستان میں زیرعلاج غفلت برتنے پر مریضوں کی اموات پر کیسز فائل نہیں ہوتے۔ کچھ افراد کی جانب سے کیسز ضرور کیے گئے ہیں لیکن اس کی شرح بہت کم ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ مرنے والوں کے اہلخانہ بھی اپنے پیاروں کی جان جانے کے بعد اسپتالوں پر یا ادویہ ساز کمپنیوں  پر مقدمہ نہیں کرتے۔ اس لیے اس معاملے میں کوئی خاص اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے،جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اس لیے ویکسین اور ادویات کا معیار بھی ہر گزرتے روز کے ساتھ بہتر ہورہا ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top