سینیٹ اجلاس میں سانحہ مری پر بحث، اپوزیشن کا جوڈیشل کمیشن کا مطالبہ

اسلام آباد: سینیٹ میں اپوزیشن نے سانحہ مری کے لئے حکومت کی قائم کردہ کمیٹی مسترد کر تے ہوئے جوڈیشل یا پارلیمانی کمیشن قائم کا مطالبہ کیا ۔ حکومت کی جانب سے ذمہ داروں کو سزا دینے کی یقین دہانی کروائی گئی ۔

سینیٹ اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا افریدی کی زیر صدارت ہوا ۔سانحہ مری پر بحث میں اپوزیشن لیڈر یوسف رضا نے کہا کہ محکمہ موسمیات نے وارننگ جاری کی کہ برفباری ہوگی۔ برف باری سے قبل میٹنگز ہوتی ہے جس میں کیمپ تک لگانے کا فیصلہ ہوتا ہے مگر کوئی کیمپ نہیں لگا یا گیا نہ ہی کوئی ریسکیو کی ٹیمیں وہاں نہیں تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کی حفاظت یقینی بنائے۔انہوں نے کہا کہ جوڈیشل انکوائری کروا کے حقائق سامنے لائے جائیں۔ قائد ایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہا کہ جب مری میں برفانی طوفان ہوا ریلیف آپریشن کرنا ممکن نہیں تھا۔ اس کے باجود ریلیف کام ہوا راستے کھولے گئے لوگوں کی داد رسی کی گئی۔حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس رکھتی ہے۔

ڈاکٹر شہزاد وسیم نےیقین دہانی کرائی کہ کمیٹی کی رپورٹ آئے گی جو ذمہ دار ہوگا اسے سزا ملے گی۔شیری رحمان ،رضا ربانی،عبدالغفور حیدری ،سینیٹر مشتاق،عرفان صدیقی اور دیگر نے سوالات اٹھا ئے اور پوچھا کہ 12 گھنٹے مقامی انتظامیہ، صوبائی پی ڈی ایم اے کہاں تھی؟۔ 22 انسانی چلیں گئیں اور کہا گیا کہ لوگ گئے کیوں تھے۔اتنے گھنٹے مقامی انتظامیہ اور ریسکیو ادارے کہاں تھے؟ ۔

رضا ربانی نے کہا کہ جو کمیٹی حکومت نے بنائی ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں۔اپوزیشن اراکین سانحہ مری پر مزید بات کرنا چاہتے تھے تاہم اجازت نہ ملنے پر اپوزیشن نے واک آؤٹ کیا اور ساتھ ہی کورم کی نشاندہی کی گئی۔ کورم کی کمی کے باعث اجلاس جمعہ کی صبح دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More