تازہ ترین
اگر آپ کوروناوائرس کا شکار ہیں تو علاج ہو گا ورنہ نہیں!

اگر آپ کوروناوائرس کا شکار ہیں تو علاج ہو گا ورنہ نہیں!

تحریر شفقت عزیز: یکم جون کی گرم رات تھی میں کراچی کے کھارا در جنرل اسپتال کے آئ سی یو میں اپنی والدہ کے ساتھ موجود تھا میری والدہ شوگر کی مریضہ تھییں اور اس وقت ان کی حالت اچھی نہیں تھی۔ آئ سی یو کے ٹھنڈے کمرے میں بھی پریشانی سے میرے ماتھے پر پسینے کے قطرے نمودار ہو رہے تھے جنہیں میں بار بار اپنے رومال سے صاف کر رہا تھا۔ والدہ کی حالت ٹھیک نہیں تھی وہ ذیابیطس کی مریضہ تھیں اور چند دن سے ان کی تکلیف بڑھ گئی تھی جس کے بعد میں انہیں اسپتال لایا تھا۔ ڈیوٹی پر اس وقت کوئ سنئیر ڈاکٹر موجود نہ تھا مجھے چین نہیں آ رہا تھا جو اس وقت ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر تھا اس نے کہا کہ آپ کی والدہ کو دل کا بھی مسئلہ ہے ہم کوشش کر رہے ہیں کہ ان کی گرتی حالت کو کنٹرول کر سکیں۔ جب دو گھنٹے سے زیادہ کا وقت گذارا اور امی کی حالت نہ سنبھلی تو میں نے اسپتال تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا میں نے ڈاکٹر سے پیشینٹ سمری طلب کی تو وہ برا مان گئے اور تھوڑی ہی دیر بعد مجھے ڈسچارج سمری تھما کر کہا کہ آپ اپنی مریضہ کو لے جا سکتے ہیں۔ میں اس رویے پر حیران رہ گیا۔ جیسے تیسے کر کے کھارادر بانٹوا اسپتال سے والدہ کو لے کر روانہ ہو گیا۔ جیسے ہی شعبہ حادثات میں پہنچا ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو سمری دیکھائ تو انہوں نے مریض لینے سے انکار کر دیا پہلے کہا کہ آپ نے ان کا کورونا کا ٹیسٹ کرایا ہے تو میرے انکار پر کہا کہ یہ کیس ہم نہیں کے سکتے۔ جس کے بعد میں وہاں سے والدہ کو لے کر کتیانہ میمن اسپتال پہنچا اور سب سے پہلے کورونا ٹیسٹ کا پوچھا گیا لیکن میرے انکار پر انہوں نے مریض کو لینے سے انکار کر دیا۔اس کے بعد میں نے والدہ کو دوبارہ ایمبولینس میں بیٹھایا اور بانٹوا انیس اسپتال پہنچا یہاں بھی ایمرجنسی میں سمری دکھائی تو وہی جواب ملا کہ کورونا کا ٹیسٹ کروا کر لائیں پھر مریض کا علاج کریں گے میں نے ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر سے منت بھی کی لیکن مجھے نظر انداز کر دیا گیا۔ اس دوران میرے ساتھ فون پہ میرا آفس کولیگ بھی میرے ساتھ تھا پریشانی میں اس کو فون کیا اور سارا ماجرا بتایا تو اس نے میری ہمت بڑھائی اور کہا کہ پاس ہی ہل پارک اسپتال ہے وہاں جاؤ میں فورا والدہ کو لے کر وہاں پہنچا اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو سمری دکھائی لیکن جواب وہی ملا کہ کورنا ٹیسٹ اگر ہوا ہے تو مریض ایڈمٹ کریں گے ورنہ مشکل ہے۔ میں نے انہیں کہا بھی کہ آپ ٹیسٹ کر لیں تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس سہولت نہیں آپ کو کہیں اور سے کرانا ہو گالیکن میرے پاس اتنا ٹائم نہیں تھا اور ہاں سمری میں میری والدہ کو بہت سے بیماریوں کا ذکر کیا گیا تھا اور کیس کو اتنا مشکل بنا دیا کہ کوئی بھی اسپتال میری والدہ کے علاج کے لیے تیار نہیں ہو رہا تھا یہاں بھی یہ ٹکا سا جواب سن کرمیں پریشانی اور بڑھ گئی دل بیٹھنے لگا لیکن میری پریشانی کو محسوس کرنے والا کوئی نہیں تھا بالاخر میں نے واپس کھارا در جنرل اسپتال واپس لے جانے کا فیصلہ کیا۔

صبح کے پانچ بج چکے تھے میں واپس کھارا در جنرل اسپتال پہنچ گیا تھا یہی سوچ رہا تھا کہ اگر یہاں بھی ایڈمٹ نہ کیا گیا تو میں ڈاکٹرز کی منت سماجت کر کے ایڈمٹ کرا دوں گا چاہے مجھے یہاں ڈاکٹرز کے پاؤں ہی کیوں نا پکڑنے پڑیں۔میں اپنی والدہ کو لے کر اندر پہنچا اور ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر کو سمری والا پرچہ تھمایا تو انھوں نے مجھے آئی سی یو کے انچارج کے حوالے کر دیا مجھے نہیں پتہ کہ وہ ڈاکٹرتھے یا نہیں بہت ہی عجیب سوالات کرنا شروع کر دئیے کہ کیوں اسپتال سے لے گئے کہاں کہاں لے گئے واپس کیوں لے کے آئے ہو وغیرہ وغیرہ۔ میں نے منت والے لہجے میں کہ ڈاکٹر صاحب میری والدہ کی جان بچائیں آپ کو اللہ کا واسطہ لیکن انہوں نے بحث کرنا شروع کر دی اتنے میں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹرنے کہا کہ انہیں وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے میں نے کہا کہ ٹھیک ہے لیکن جوصاحب آئی سی یو انچارج تھے وہ مجھ سے بھاؤ تاؤ میں لگ گئے اور جوریٹ انہوں نے بتائے وہ رات والے ریٹ سے کہیں زیادہ تو جو اسی اسپتال کے ڈاکٹرز نے بتائے تو میں نہیں انہیں بتایا کہ جو وینٹی لیٹر چارجز آپ بتا رہے ہیں وہ کہیں زیادہ ہیں اور ہماری حثیت سے باہر ہیں لیکن انہوں سخت لہجے میں کہاکہ اگر علاج کرانا تو کراؤ نہیں تو اپنا مریض کہیں اور لے جاؤ میں نے ان کے پاؤں پکڑنے کی بھی کوشش کی لیکن انہوں نے ڈانٹ دیا میں اس وقت اپنے آپ کو دنیا کا سب سے لاچار شخص تصور کر رہا تھا میں نے انہیں بتایا کہ میں نجی چینل میں کیمرہ مین کے فرائض انجام دیتا ہوں اور میرے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ میں وہ چارجز ادا کرپاؤں گا لیکن انہوں نے مزید علاج سے منع کر دیا اور آخر میں یہ کہہ دیا کہ کوئی بیڈ خالی نہیں ہے۔

رات کو میری والدہ ہلکی پھلکی بات چیت بھی کر رہی تھیں لیکن اب انہوں نے بات چیت بھی بند کر دی جس سے میرا دل اور بیٹھ گیا میں چونکہ لیاری نیا آباد کا رہائشی ہوں میں نے آخری سہارا لیا اور لیاری جنرل اسپتال کے شعبہ امراض قلب پہنچا کہ شاید میری یہاں سنوائی ہو جائے میں نے میڈیا کا تعارف بھی کرایا لیکن اس کے باوجود مجھے وہی جواب ملا کہ کورونا کا ٹیسٹ ہو گا پھر علاج شروع کریں گے اور یہاں خواتین کا علاج نہیں ہوتا بڑے کارڈیو جانا ہو گا یہ سن کر تو میں ہمت بالکل ہار گیا اور میرے ذہن میں چند دن قبل ڈاکٹرز کو سلوٹ کرنے کی خبریں چل رہی تھیں مجھے لگا سب بکواس تھا کہ فرنٹ لائن سولجر ایسے ہوتے ہیں کہ ایک مرتے مریض کی جان نہ بچا سکیں میں نے لاک ڈاؤن کے دوران کئی ڈاکٹرز کی کوریج کی ہے سب ان کی تعریف کر رہے تھے مجھے وہ سب فراڈ لگا ایسا لگا سب جھوٹ بول رہے تھے کیا ایسے لوگوں کو سلوٹ کرتے ہیں سب مصنوعی سا لگ رہا تھا۔ آخر کار تھک ہار کر میں واپس گھر آگیا تو والدہ کی سانسیں اکھڑنا شروع ہو گئیں صبح کے نو بج چکے تھے۔کسی نے مشورہ دیا کہ انہیں اکسیجن لگاؤ میں نے آکسیجن سلنڈر کا بندوبست کرکے والدہ کو آکسیجن لگا دی والدہ کو دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہا تھا لیکن میں بلکل بے بس تھا۔ شام تک میری والدہ نے اسی حالت میں دم توڑدیا میری جنت مجھ سے بچھڑ گئی اور میں بے بسی کی تصویر بنے بیٹھا رہا۔ چند دن بعد میں نے ایک درخواست لکھی جس میں ساری روداد بیان کی اور ہیلتھ کئیر کمیشن کے دفترپہنچا لیکن وہ دفتر بھی کورونا وائرس کے سبب بند تھا۔

یہ کہانی ابتک ٹی وی کے کیمرہ مین محمد شاہد کی ہے جس نے اپنی والدہ کواس لیئے کھو دیا کہ انہیں کورونا نہیں تھا اور ان کا کورنا کا ٹیسٹ بھی نہیں کرایا تھا وہ عام سے بیماری میں مبتلا تھیں اگر بروقت ان کا علاج ہو جاتا تو شاید بچ بھی جاتیں یہ کہانی صرف شاہد کی نہیں بلکہ سما ٹی وی کے کیمرہ مین مرغوب حسین کی بھی ہے جن اہلیہ کا دل کا وال لیک تھا جس کا جلد آپریشن قومی ادارہ برائے امراض قلب میں ہونا تھا لیکن کورونا کے ڈر سے ڈاکٹرز نے دو بار آپریشن کی تاریخ دینے کے باوجود آپریشن نہیں کیا اور بالاخر ان کا انتقال اپریل میں ہوا اسی طرح کی کہانی بول ٹی وی کے کیمرہ مین ساجد کمال کی بھی ہے جس کی والدہ کو کورونا کے ڈر کے باعث کسی اسپتال نے طبی امداد فراہم نہیں کی اور ان کا بھی انتقال ہو گیا۔ایسی درجنوں کہانیاں رپورٹ ہوئی ہیں جنہیں تحریر کیا جا سکتا ہے لیکن ان تین لوگوں کی کہانی اس لئے لکھی کہ ان لوگوں کو حکومت باآسانی تلاش کر کے ان کی داد رسی کر سکتی ہے۔

کورونا کا ڈر دیگر امراض میں مبتلا مریضوں کی زندگیاں نگل رہا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔ وزیر اعلی سندھ کی جانب سے جاری روزانہ کے اعدادو شمار کے مطابق صوبے میں کورونا سے مرنے والوں کی شرح دو فیصد ہے جبکہ دیگر بیماریوں سے مرنے والوں کی شرح دس فیصد ہے۔ شہر کے نجی اسپتال کورونا کے مریضوں کا علاج کرنے میں مصروف ہیں اور کمائی کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔میں نے کھارادر جنرل اسپتال کے ترجمان سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس رش بہت ہے شاہد کی والدہ ہمارے پاس زیر علاج تھیں لیکن ان کے گھر والوں کو لگا تو انہوں نے کسی دوسرے اپستال منتقل کرنے کے لئے ہمیں کہا اور اسپتال نے ڈسچارج سمری بنا دی لیکن جب یہ اپنی والدہ کو دوبارہ اسپتال لے کر آئے تو ہمارے پاس جگہ نہیں تھی۔ یہ تاثر غلط ہے کہ ہم نے علاج سے منع کیا ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ اسی طرح کھاراد بانٹوا اسپتال کی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ ہم نے مریضہ کو اس لئے نہیں لیا کیونکہ کورونا کی وجہ سے او پی ڈیز بند تھیں اور متعلقہ ڈاکٹر اسپتال میں نہیں تھے اس لئے ہم نے انہیں کسی اور اسپتال جانے کا مشورہ دیا ہمارے لئے ہر آنے والا مریص کورونا کا مشتبہ مریض ہے اور ہم اسے کورونا کو مریضوں جیسے ہی ٹریٹ کرتے ہیں ہاں اگر ٹیسٹ ہوا ہو تو پھر دوسرے وارڈ میں شفٹ کرتے ہیں۔ میں خود بھی اسپتالوں میں عام مریض بن کر گیا تو مجھے بھی کسی نے نہیں دیکھا صرف کورونا کے مریضوں کو ہاتھوں ہاتھ لیا جا رہا ہے شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ کورونا کے علاج میں اسپتالوں کو زیادہ محنت نہیں کرنا پڑتی کیونکہ اس میں درد اور بخار کو کم کرنے کے لئے دوا دی جاتی ہے اور تشویشناک حالت میں وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑتی ہے جس کا بل لاکھوں میں نجی اسپتال وصول کرتے ہیں۔

پاکستان اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن کراچی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر عبدالغفور شورو کہتے ہیں کہ ہم نے حکومت کو شروع میں ہی اسپتالوں میں مریضوں سے متعلق پالیسی بنانے کو کہا تھا اور چند تجاویز دی تھیں کہ نجی و سرکاری اسپتالوں میں او پی ڈیز میں ڈاکٹرز اور اسپتال میں کام کرنے والے ہر شخص کو پی پی ایز فراہم کی جائیں۔ مریض کے ساتھ کوئی تیماردار نہ آئے تیماردار صرف اس صورت میں آئے جب مریض بولنے چلنے یا اسے کوئی اور معذوری ہو۔ اسپتالوں میں سماجی فاصلے کو یقنی بنایا جائے اورمریضوں کو اسپتالوں میں بیٹھنے کے لئے مخصوص نشانات لگائے جائیں تاکہ وہ لوگ جنہیں کورونا نہیں ہے وہ بچ سکیں لیکن بدقستمی سے ان پر عمل درآمد نہ ہو سکا۔ یہ حکومت اور نجی اسپتالوں کی کوتاہی ہے کیونکہ ہمارا ہیلتھ کئیر سسٹم اچھا نہیں۔ دوسری جانب اسمارٹ لاک ڈاوں کا بھی اعلان کیا گیا ہے اس پر عملدرآمد کیسے ہو گا یہ بھی واضح نہیں ہو سکا۔ ڈاکٹر سکندر شورو نے مزید کہا کہ نجی اسپتالوں سے متعلق تمام صورتحال کا ذمہ دار ہیلتھ کئیر کمیشن سندھ بھی ہے جو شاید گہری نیند سو رہا ہے۔ وہ صرف پیسے کمانے کے چکر میں لگا ہوا ہے اس کا کام شریف ڈاکٹرز کو تنگ کرنا ہے شہر میں ہزاروں جعلی کلینکس دوبارہ کھل گئے لیکن کمیشن کو وہ نظر نہیں آ رہے۔

ہیلتھ کئیر کمیشن کی ایکٹنگ سی ای او ڈاکٹر فرحانہ میمن کہتی ہیں کہ ہمیں اب تک مریضوں یا ان کی تیمار داروں کی جانب سے کوئی بھی شکایات موصول نہیں ہوئی اگر شکایت موصول ہوئی تو لازمی کارروائی کریں گے تاہم شاہد کے کیس کے حوالے سے ڈاکٹر فرحانہ میمن کا کہنا تھا کہ شاہد نے اپنی والدہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعات کی شکایت ایک ہفتہ قبل بذریعہ فون درج کرائی ہے ہمارے شکایاتی سیل ٹیم ان کی شکایات کا جائزہ لے رہی ہے۔ اگر اسپتالوں کی کوتاہی ثابت ہوئی تو سخت ایکشن لیا جائے گا جس کے بعد شکایت کنندہ ہماری رپورٹ پر مقدمہ بھی درج کرا سکتا ہے۔ ڈاکٹر فرحانہ مہمن کہتی ہیں سوشل میڈیا پر تو لوگ شکایت کرتے ہیں لیکن ہم تک شکایت نہیں پہنچاتے سوشل میڈیا پر کی جانے والی شکایت پر کوئی ایکشن نہیں لے سکتے۔کراچی کے تین بڑے اسپتال زائد فیسیں اور چارجز وصول کر رہے ہیں جنہیں ریگولیٹ کرنے کے لئے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں جیسا کہ مختلف مرض میں مبتلا افراد کے علاج کے لئے چارجز اسپتال پہلے بتانے کی پابند ہو گی اور ریٹ لسٹ بھی اسپتالوں میں آوایزاں کی جائے گی تاکہ اسپتالوں میں مریضوں اور انتظامیہ کے درمیان زیادہ تکرار بل پر ہوتی ہے کوشش کرر ہے ہیں کہ ان شکایات کو کم کیا جاسکے۔

Comments are closed.

Scroll To Top