کسی سیاسی رہنما کے خلاف کیس واپس نہیں لیا گیا، ایف آئی اے

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے اپنے ایک وضاحتی بیان میں کہاہے کہ لاہور میں ایک جماعت کے سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کے حوالے سے میڈیا میں ایک جعلی خبر گردش کر رہی ہے۔ کیس واپس نہیں لیا گیا۔ عدالت میں کارروائی جاری ہے ۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ایک جماعت کے سیاسی رہنماؤں کے خلاف مقدمہ واپس لینے کے حوالے سے میڈیا میں ایک جعلی خبر گردش کر رہی ہے۔کیس واپس نہیں لیا گیا۔ عدالت میں کارروائی جاری ہے سماعت کی اگلی تاریخ 14.05.2022 ہے۔ایف آئی اے اس جعلی خبر کو پھیلانے میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی کر سکتی ہے۔

ترجمان ایف آئی اے نے کہا کہ 11.04.2022 کو کیس کے پراسیکیوٹر نے پراسیکیوٹر کی تبدیلی کے حوالے سے اپنی رائے پر مبنی درخواست عدالت میں جمع کرائی۔ جس میں اسے استغاثہ کی جانب سے پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی۔انہوں نے تفتیشی افسر اور ان کے ذریعے اس وقت کے ڈی جی ایف آئی اے کا ذکر کیا۔انہیں مبینہ طور پر پراسیکیوٹر کے طور پر پیش نہ ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

ترجمان ایف آئی اے کے مطابق 11.04.2022 کو ثناء اللہ عباسی ڈی جی ایف آئی اے تھے۔درخواست جمع کراتے وقت نئے وزیراعظم نے ابھی تک حلف نہیں اٹھایا تھا۔ رائےطاہر کو 22.04.2022 کو ڈی جی ایف آئی اے تعینات کیا گیا۔ یہ معاملہ ایف آئی اے میں ان کی آمد سے پہلے کے وقت سے متعلق ہے۔

ترجمان ایف آئی اے نے بتایا کہ پراسیکیوٹر کی تبدیلی ایک معمول کی بات ہے۔پچھلی حکومت کے دور میں بھی اسی کیس میں کئی بار پراسیکیوٹر تبدیل کیے گئے۔اس معاملے میں جھوٹی خبریں نہ پھیلائی جائیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More