وفاقی کابینہ کا اجلاس، شہزاد اکبر اور ضیا المصطفیٰ نسیم کے نام ای سی ایل میں شامل


وفاقی کابینہ نے وزارتِ داخلہ کی سفارش پر 10 افراد کے ناموں کو ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈالنے، 22 لوگوں کے نام نکالنے جبکہ3 لوگوں کوایک مرتبہ اجازت کی منظوری دے دی۔ کابینہ نے وزارت نیشنل ہیلتھ سروسز کی طرف سے 35 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کو متفقہ طور پر مسترد کردیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا وزارت داخلہ کی سفارش پر دس افراد کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کیئے گئے۔ جس میں سابق مشیر داخلہ و احتساب شہزاد اکبر اور ضیا المصطفیٰ نسیم کے نام بھی موجود ہیں۔ دنوں کے نام نیب نے ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی تھی۔ نام نجی ہاؤسنگ اسکیم کے کیس کی بنیاد پر شامل کیئے گئے ہیں۔

کابینہ کو وزراتِ موسمیاتی تبدیلی کی طرف سے ملک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی موسمیاتی تبدیلیاں پاکستان کے وسائل کو بری طرح متاثر کررہی ہیں اور آبادی میں مسلسل اضافہ بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کابینہ میں تجویز پیش کی گئی کہ پاکستان کو درپیش مسائل پر آگاہی، پاکستان کے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے تحت اٹھائے گئے اقدامات پر تفصیلی ڈاکومنٹری بنا کر بین الاقوامی فورمزپر پیش کی جائے اس کے علاوہ اسکول اور کالجز کے نصاب میں بھی موسمیاتی تبدیلی کی تعلیم کو شامل کرنے اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے بنائی گئیں پالیسیوں کے نفاذ کو بھی یقینی بنا نے پر زور دیا گیا۔

کابینہ میں جنگی بنیادوں پربارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ اس حوالے سے اسلام آباد میں اس منصوبے کو پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر اجراء کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی۔ کابینہ نے متفقہ طور پر وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی شیری رحمان کی سربراہی میں کابینہ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی جس میں متعلقہ وزارتوں کے وزراء بھی شامل ہوں گے۔ جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے قلیل، وسط اور طویل مدتی منصوبوں پر اپنی سفارشات پیش کرے گی۔

وزیراعظم نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی، واٹر سیکیورٹی اور فوڈ سیکیورٹی تینوں ایک دوسرے سے منسلک چیلنجز ہیں اور ہمیں ان سے نبرد آزما ہونے کے لیے اور اپنی آنے والی نسلوں کو ان کے اثرات سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ حکومت کو موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والے متوقع مسائل کا بخوبی ادراک ہے اور اس مسئلہ کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وفاقی کابینہ نے وزارتِ خزانہ کی سفارش پر مالی سال 2022-23 کے لیے دِیت کی کم از کم حد 30 ہزار 6 سو 30 (30,630)گرام چاندی کے برابر، جس کی مالیت تقریباً43 لاکھ روپے سے اوپر بنتی ہے، مقرر کرنے کی منظوری بھی دی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More