قائمہ کمیٹی دفاع میں معید یوسف کی نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر بریفنگ

اسلام آباد: سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین نے کہا کہ قومی سلامتی پالیسی پر پارلیمنٹ میں وسیع تر اتفاق رائے ضروری ہے۔کشمیر اور جوہری پروگرام ہماری سلامتی پالیسی کا مرکزی پہلو ہے جس کا فروغ اور تحفظ اہم ہے۔

سینٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کا ان کیمرہ اجلاس مشاہد حسین سید کی صدارت میں ہوا جس میں مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے نیشنل سیکیورٹی پالیسی پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 232نکات پر مشتمل پالیسی متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور سفارش پر تیار کی گئی ہے جس کی بنیاد حکومت کی جاری پالیسیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جاری پالیسیوں کو بنیاد بناکر دستاویز تیار کی گئی۔ اس پالیسی کا ہر سال ازسر نو جائزہ لیا جائے گا۔ سینٹ کمیٹی کا کہنا تھا کہ اس پر کام سابقہ حکومتوں کی طرف سے کیا گیا۔ چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا کہ موجودہ عالمی منظرنامہ میں قومی سلامتی صرف فوجی طاقت پر مبنی نہیں ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مرکزی قومی مفاد کشمیر اور جوہری پروگرام پر مشتمل ہے جن کا فروغ اور تحفظ ضروری ہے۔پاکستان کا بیانیہ بیرونی دنیا تک پہنچانے کے لئے جامع پیشہ ورانہ تزویراتی کمیونیکیشن اہم ہے۔ پارلیمنٹ میں قومی سلامتی پالیسی پر سیاسی اتفاق رائے ضروری ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More