تازہ ترین
امانت دیانت کا چمکتا چہرہ

امانت دیانت کا چمکتا چہرہ

کراچی شہر کی بربادی میں یوں تو مقامی، صوبائی اور وفاقی حکومتوں کا بڑا گھناؤنا کردار رہا ہے لیکن اس شہر بے مثال میں ایسے افراد اور سیاستدان بھی گزارے ہیں، جنہوں نے کراچی کو عروس البلاد بنانے کیلئے قیام پاکستان سے قبل اور بعد میں شہر کی تعمیر تزئین و آرائش میں اہم کردار ادا کیا۔

جن شخصیات نے شہر کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا ان میں نعمت اللہ خان کا نام سرفہرست ہے، ان فرزندِ کراچی نے بلدیہ عظمیٰ کا خزانہ بطور ایک امانت سمجھ کر استعمال کیا، یہی وجہ ہے کہ آج کسی بھی محفل میں جمشید نسروانجی مہتا، حاتم اے علی، ہاشم گزدار، سہراب کے ایچ کٹرک، یوسف ہارون، حکیم محمد احسن، صدر اللہ بخش گبول، ایچ ایم حبیب اللہ پراچہ، محمود ہارون، الحاج ملک باغ علی، صدیق وہاب، احسن توفیق ، عبدالستار افغانی اور ضیا اللہ کے نام لیئے جاتے ہیں تو سننے والوں کے سر ان کے احترام میں جھک جاتے ہیں، نعمت اللہ خان بھی اس لحاظ سے منفرد شخصیات کے مالک تھے کہ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھتے تھے ان کا بچپن قائد آباد موجودہ قائداعظم محمد علی جناحؒ کے قرب وجوار میں آباد ہزاروں چھپڑیوں کی میں صبروشکر کے ساتھ بسر ہوا، ان کی زندگی اسلامی تعلیمات کا عملی نمونہ تھی، جماعت اسلامی سے نظریاتی اختلافات رکھنے کے باوجود مجھے یہ اعتراف کرتے ہوئے بری مسرت محسوس ہورہی ہے کہ نعمت اللہ خان اور عبدالستار افغانی جماعت اسلامی کے دو ایسے ہیرے سیاستدان کارکن، سپاہی اور عوام کے خادم تھے جن کے دامن پر کرپشن کا معمولی شابئہ تک نہ تھا آج جب چاروں طرف شہر شہر گریہ گریہ کرپشن کی داستانیں بکھیر پڑی ہیں اس کے درمیان امانت دیانت کے یہ دو ہیرے اپنی کی قسم کے دوسرے خادموں کےساتھ چمک دمک رہے ہیں۔

چہرہ اور مہرہ دیکھ کر انصاف کا قتل کوئی نئی بات نہیں لیکن یہ سب کچھ اس زمانے میں روا رکھا جاتا ہے جب چاروں طرف متلق العنانی ہوتی تھی، انصاف کا ترازو حاکم وقت کی مزاج شناس ہوتی تھی لیکن جیسے جیسے دنیا سے بادشاہت کو زوال اور انصاف کی دیوی نے اپنی چمتکار دیکھنا شروع کیے تو دنیا بھر میں یہ نعرہ گونجنے لگا کہ انصاف اندھا ہوتا ہے اور وہ حاکم وقت کی مزاج کے مطابق وقت کی سیاسی و معاشی مصلحت سے بالا تر ہوکر حق وانصاف سے لبریز زہر کا پیلا پینے سے انکار نہیں کرتا، تاریخ کے اورق خاص طور پر ریاست مدینہ کا دور انصاف کرتے وقت کبھی خونی رشتوں کو اپنے اڑے آنے نہیں دیتا لیکن جیسے جیسے ہم اسلامی تعلیمات اور اپنے اکابرین کی چھوڑی ہوئی روشن مثالوں کو فراموش کرتے گئے اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، انصاف کے نام پر ریاست مدینہ کے انتہائی خوبصورت ترین چہرے کو داغ دار کرکے بھی ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم سے بہتر مسلمان اور انسان کرہ ارض پر نہیں، پاکستان میں انصاف اور احتساب کو گزشتہ چند برسوں کے دوران جس بیدردی کیساتھ ذاتی خواہشات کے بھیٹ چڑھایا گیا اس کی مثال ملنا بہت مشکل ہے احتساب کے نام کو سب سے پہلے سیف الرحمان نامی شخص نے بے آبرو کیا، انصاف کو اندھیروں کی گھاٹیوں میں جسٹس منیر نے پھینکا اس ایدھیرے سے نکلنے کے بعد میں جیتنی بھی کوششیں کی گئی ان سب کو جسٹس منیر کی روح کے زیر اثر ججز نے انصاف کی دیوی کو مزید زخم لگا کر قوم کو سسکنے پر مجبور کردیا لیکن سچ حقائق زمانے کی سختیوں اور جبر کے باوجود اپنی آواز اور حقیقت کو آشکارہ کرتا رہتا ہے، یہ صحیح ہے کہ آج کے خود گزار معاشرے میں انا الحق کہنے والوں کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

پاکستان میں احتساب کے موجودہ عمل کو پوری شفافیت کے ساتھ تکمیل کو پہنچنے کی ذمے داری بھی ایک ایسے شخص کے سپرد ہے جس کی عملی زندگی قانون کی حکمرانی اور قانون کی تشریح میں گزاری ہے، ان کا یہ بھی دعویٰ رہا ہے کہ بحیثیت چیئرمین احتساب بیورو وہ فیس نہیں کیس دیکھتے ہیں، ان کے اس دعوے پر اگر نیب کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو محسوس ہوتاہے کہ ملک کی عدالت عالیہ کے ججز بھی چیئرمین نیب کے اس دعوے پر شک و شبہے کا شکار ہیں، عدالت عالیہ کے چیف جسٹس سے لیکر صوبائی عدلیہ کے جج صاحبان احتساب بیورو پر سوال اٹھا چکے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے ملک کی دو اہم سیاسی شخصیات سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال کو کرپشن کے مقدمات میں ضمانتوں پر رہائی کا فیصلہ چہرہ دیکھ کر نہیں بلکہ کیس دیکھ کر کرنے کی نفی ہے۔

Comments are closed.

Scroll To Top