تازہ ترین
مہنگائی کا احساس

مہنگائی کا احساس

 دو یزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں برسر اقتدار آنیوالی حکومت کا ہر دن ملک کے غریب ،بے روزگار ، بیمار اور بھوکے ننگے عوام کے لیےعذاب الہی سے کم نہیں مہنگائی کا دیو ہے کہ وہ بھیانک دانت نکالے غریب عوام کو ہمہ وقت نگلنے کے لئے اپنے دانت تیز کررہا ہے۔ 

جہاں تک مہنگائی کے دیو کو قابو کرنے والے ادارے خاص طور پر وفاقی و صوبائی حکومتوں کی متعلقہ مشینری اور بھاری تنخواہیں لینے والی بیورو کریسی کا تعلق ہے اس کا دور دور تک کہیں نام و نشان نہیں پایا جاتا ۔ گزشتہ ہفتے وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر غور کیا گیا بقول محترمہ سرکاری ترجمان اجلاس کے شرکا کا ذخیرہ اندوزوں اور ملاوٹ کرنے والے مافیا کے خلاف کی جانیوالی کارروائیوں سے آگاہ کیا گیا۔ حکومتی ترجمان کا مہنگائی کی صورتحال پر یہ سرسری بیان عوام کو مطمئن کرنے اور ان کے اصل مسئلے کے حل کے متعلق قطعی طور پر خاموش ہے ۔ کیا ہی بہتر ہوتا مشیر اطلاعات ان ملک اور انسانیت دشمن مافیا کے سرغنوں اور کارندوں کے ناموں سے بھی آگاہ کرتیں ۔ اس سے قبل وزیر اعظم کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبریں بھی شائع ہوچکی ہے کہ ملک میں آٹا چینی کی قیمتوں میں اچانک ہوشربا اضافہ اور عوام دستیابی میں ملوث مافیا کے لوگوں کے ناموں کا پتہ چل گیا ہے لیکن قوم کو آج تک نہیں معلوم ہوسکا کہ آخر وہ کون سے پردہ نشین ہیں جو بیک وقت مافیا اور سیاست دونوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مافیا کی آزادانہ سرگرمیوں کی بدولت ملک میں افراط زر کی شرح 14.6 فیصد رہی جو ملک کی بارہ سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہے ۔ ادارہ شماریات کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق جنوری 2019 کی نسبت جنوری 2020 میں مہنگائی کی شرح 456 فیصد رہی ایک ہفتے کے دوران 14 اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ۔ پاروچی خانے میں استعمال ہونیوالے مصالحہ جات، تیل ،دالیں ،چاول چینی اور آٹے کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں ۔ مافیا کے ہاتھوں مجبور ہماری کرپشن سے پاک حکومت نے گندم کی طرح چینی بھی تین لاکھ ٹن درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے یہ کس کو فائدہ پہنچانے کی کوشش ہے ۔ گندم اور گنا پیدا کرنے والا غریب کاشتکار دال روٹی کا محتاج ہے جبکہ مافیا اور بڑی بڑی آٹا اور شوگر ملوں کے مالکان کو غریب عوام کا خون چوسنے کی مکمل آزادی ہے ۔  یہ کتنی بڑی ستم ظریفی ہے کہ بنیادی طور پر ایک زرعی ملک گندم ،چینی، پیاز اور ٹماٹر جیسی بنیادی اشیا بیرون ممالک سے درآمد کرے ۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ملک کی تمام چھوٹی بڑی اپوزیشن اور علاقائی جماعتوں نے بھی مہنگائی کے سوال پر اپنے منہ بند کررکھے ہیں ۔ پارلیمنٹ کےاندر یا باہر کسی بھی جگہ سے موثر آوازیں سنائی نہیں دے رہی البتہ ذاتی مفادات کے لئے اسمبلیوں کے فلورز پر ہر اجلاس میں بھونچال برپا رکھتی ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عمران خان ذاتی طور پر ملک کے غریب عوام کی حالت زار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں لیکن ان کے اردگرد سابق حکمرانوں کی چھوڑی ہوئی اشرافیہ کی باقیات ان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔ ملک کے موقر اداروں میں تبدیلی کے نام پر ایسے لوگ براجمان ہوگئے ہیں جن کو قومی معاملات کا معمولی ادراک تک نہیں ہے ۔ عمران خان کی حکومت کو ابتدا ہی سے اپنی پائیداری کا مسئلہ در پیش تھا جن لوگوں اور اداروں نے پارلیمنٹ میں عمران خان کو چھوٹی اور علاقائی جماعتوں کے ذریعے اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھایا وہ اپنے پر پرزے نکالنے لگے ہیں ۔ پنجاب جہاں عمران خان ذاتی طور پر عثمان بزدار کے پردے میں صوبائی معاملات کو دیکھ رہے ہیں وہاں گجرات کے چودھری برادران نے اپنی فراہم کردہ بیساکھی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایوان اقتدار سے ہٹانا شروع کردیا ہے ۔ چودھری برادران کے تمام چودھری بیک وقت عمران خان کو اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے رخصتی کی بھی دھمکی دے رہے ہیں اس سلسلہ میں چودھری شجاعت حسین جیسے زیرک بزرگ سیاستدان ہو یا چودھری پرویز الہی جیسے سیاسی شطرنج کے کھلاڑی اور ان کے صاحبزادے چودھری مونس الہی ان سب کی زبان پر صرف ایک ہی بات ہے کہ عمران خان اوران کی پارٹی کے اندر اعتماد کا فقدان ہے ان کو ہروقت یہ خطرہ لاحق رہتا ہے کہ ان کی مخلوط حکومت میں شامل جماعتیں کسی بھی وقت انجانی قوت کے اشارے پر ان کی حکومت ختم کرسکتی ہیں ۔

عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاسی نیت پر پہلا میٹھا حملہ چودھری پرویز الہی نے یہ کہہ کر کیاکہ ہم نیک نیتی کے ساتھ چاہتےہیں کہ عمران خان کی حکومت چلے اور اپنی مدت پوری کرے ،اتحادی کو سوتن نہیں سمجھنا چاہئے ہم سے کیئے گئے وعدے پورے ہونے چاہیں ۔ چودھری پرویز الہی نے عمران خان کے ساتھ ہونیوالے معاہدے پر بڑے ہی لطیف انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کا تجربہ خوشگوار قطعاً نہیں تھا البتہ زرداری نے جو کہا انہوں نے اس سے بڑھ کر کیا جبکہ گجرات کے چودھریوں کے سربراہ چودھری شجاعت حسین، پرویز الہی اور مونس الہی نے بھی عمران خان کو ان کے اصل دشمنوں سے آگاہ کرتے ہوئے اپنے بیانات میں کہا کہ عمران خان کو اتحادیوں سے نہیں اپنوں سے خطرہ ہے ہم پی ٹی آئی کو اپنا ساتھی سمجھتے ہیں وہ بھی ہمیں دشمن نہ سمجھیں ہم ساتھ نبھانا بخوبی جانتے ہیں ۔ جہاں تک چودھری شجاعت حسین کی باتوں کا تعلق ہے وہ سو فیصد حقائق پر مبنی ہیں یہ حقیقت ہے کہ پی ٹی آئی ہوا کے رخ پر اڑنے والے سیاسی پرندوں پر مشتمل ہے ۔ پی ٹی آئی کے وزرا کی اکثریت جنرل مشرف ،زرداری اور نوازشریف کے سیاسی کھلیانوں کو نوچ کھسوٹ کر پی ٹی آئی کی پناہ میں اقتدار کے مزے لوٹ رہے ہیں ۔

Comments are closed.

Scroll To Top