تازہ ترین
عمران خان ۔ ۔ ۔ مخبر اور مافیا

عمران خان ۔ ۔ ۔ مخبر اور مافیا

تحریک انصاف بائیس سال کی سخت سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں جن سنہرے خوابوں کے سہارے نوجوان نسل کی بھرپورحمایت کے نتیجے میں برسراقتدار آئی تھی وہ خواب نہ صرف فضامیں بکھر کرتحلیل ہوگئے بلکہ لاکھوں نوجوان کارکنوں اور حامیوں کو مایوسی کے لامتناہی غار میں دھکیل کر طرح طرح کے نفسیاتی امراض میں مبتلا کرکے تنہا چھوڑ دیا ہے۔

عوام موجودہ حکومت کی کارکردگی سے متعلق کس قسم کے خیالات اور جذبات رکھتے ہیں وہ اب حکمران طبقے سے بھی پوشیدہ نہیں ہیں۔ تحریک انصاف سے وابستہ نوجوانوں کی اکثریت یہ بات تسلیم کرنے پر تیار نہیں کہ پیار، ٹماٹر، آلو، چینی کی قیمتوں میں اضافہ سابق حکومتوں کی نااہلی کا نتیجہ ہے، آخر تحریک انصاف کی حکومت اٹھارہ ماہ سے کیا کررہی ہے اگر حکومت وقت کے اس موقف کو صحیح تسلیم کرلیا جائے کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سابق حکومت کی دونوں شعبوں میں ناقص کارکردگی کا نتیجہ ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے اس کے ازالہ کے لئے کونسا انقلابی قدم اٹھایا، بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری کرنے والوں میں اکثریت بڑے بڑے تاجروں، صنعتکاروں اور پلازوں کے مالکان کی ہے لیکن ان کی چوری کی سزا ہر ماہ پابندی کے ساتھ بجلی اور گیس کے واجبات ادا کرنے والوں سے کیوں دی جارہی ہے، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قومی وصوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو کروڑوں روپے ترقیاتی فنڈز دینے کی شدید مخالفت کرتے رہے ہیں لیکن اپنی حکومت کو خطرہ میں محسوس کرتےہوئے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کو ق لیگ کے مطالبہ پر ہتھیار ڈال دیے جہاں تک ملک کے ایک کروڑ بیرزگار نوجوانوں کو روزگار مہیا کرنے کا وعدے کا تعلق ہے وہ بھی اب قصہ پارینہ بن چکا ہے۔


پاکستان گزشتہ اٹھارہ ماہ کے دوران متعدد سنگین بحرانوں سے دو چار ہے اس میں سب سے خطرناک اور ندوہناک بحران مہنگائی کا ہے ضروریات زندگی کی اشیا کی قیمتیں سابق حکومتوں کے دور سے کئی گنا زائد ہوچکی ہیں، مہنگائی کا طوفان حکومت کے امدادی پیکیج اور پچاس ہزار خوردہ پرچوں دکانیں کھولنے اور راشنگ سسٹم کو دوبارہ نافذ کرنے کے وعدوں سے مہنگائی کے طوفان کا مقابلہ نہ ماضی کی حکومتیں کرسکیں نہ ہی موجودہ حکومت میں اس کی صلاحیت موجود ہے۔

دوہزار اٹھارہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں عمران خان نے جب عنان حکومت سنبھالی تو عوام کو توقع تھی کہ وہ ملک کی اقتصادیات کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ شہریوں کے بنیادی مسائل کو حل کرنے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کریں گے۔ اپنے انتخابی منشور کو عملی شکل دینے کے لئے انتخابی رنجشوں کو فراموش کرکے یکسوئی کے ساتھ ملک کی تعمیر نو کرتے ہوئ تمام سیاسی جماعتوں کا تعاون حاصل کریں گے لیکن اٹھارہ ماہ کی عمران خان کی حکومت اور ان کی ذاتی کارکردگی سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ابھی تک دھرنا سیاست اور کنٹینر کی شعلہ بیانی سے نجات حاصل نہیں کرسکے ہیں جس کے نتیجے میں ملک میں سیاسی افراتفری میں دن بہ دن اضافہ ہوتاجارہا ہے، جہاں تک اپوزیشن جماعتوں کا تعلق ہے ان کو نیب کے ذریعے عضو معطل بنانے کے باوجود عمران خان کا جذبہ انتقام ہے کہ وہ ٹھنڈا ہونے کا نام نہیں لے رہا، انتقام کی چنگاری کو دن بہ دن بھڑکانے میں تحریک انصاف میں موسم کی تبدیلی کیساتھ سیاسی وفا داریاں تبدیل کرنے والے سیاسی بگلے اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

تازہ ترین شگوفہ جنرل مشرف اور پیپلزپارٹی کے اقتدار کی نائو کو ڈوبتے دیکھ کر چھلانگ لگا کر انتخابات سے چندہ ماہ یا دن قبل تحریک انصاف میں شریک ہونے والے بگلے نے چھوڑا ہے، منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کی مولانا فضل الرحمٰن کی سازش کی مخبری کرنے والے شاید تحریک انصاف کی تاریخ سے ناواقف ہیں یا جان بوجھ کر انجان بن رہےہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن پر غداری کا الزام جس دھرنے اور اس کے نتیجے میں کروائی جانیوالی یقین دہانیوں کے حوالے سے عائد کیا جارہا ہے، اس سے زیادہ سنگین جرم کے تحریک انصاف مرتکب ہوچکی ہے، عمران خان نے امپائر کی انگلی کا اشارہ کرتے ہوئے نواز شریف حکومت کے خاتمے کی دھرنے کے شرکا کو خوشخبری سنائی تھی، دھرنے کے دوران ہی پارلیمنٹ اور پاکستان ٹیلی ویژن کی عمارت پر حملہ جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کیا گیا تھا لیکن کسی نے بھی آج تک عمران خان یا تحریک انصاف پر غداری کا الزام عائدنہیں کیا، ہمارے ملک میں سیاسی مخالفین کو غدار قرار دینے کی روایت بہت پرانی ہے قیام پاکستان کے بعد ہم نے اپنے ان اکابرین کو غدار قرار دیا جنہوں نے قائداعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں قرار داد پاکستان پیش کی تھی، شیر بنگال، سابق وزیراعلیٰ مشرقی پاکستان اے کے فضل الحق، حسین شہید سہروردی کو غدار قرار دیا اور بعد میں ملک کا وزیراعظم اور وزیر داخلہ بنایا گیا ملک کے پہلے آمر اور جمہوریت کے قاتل ایوب خان نے حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی ہمیشرہ محترمہ فاطمہ جناحؒ کو بھارتی ایجنٹ قرار دیا، ان کی تقریر کو سنسر کیا اگر آج عمران خان سیاسی بگلوں کے بہکاوے میں آکر مولانا فضل الرحمٰن کو غدار قراردے رہے ہیں تو وہ یہ بھول جاتےہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن اس شخص کے بیٹے ہیں جس نے 1973 کے آئین کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا تھا، جو عناصر جان نثاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے محاذ آرائی کی فضا کو برقرار رکھنے کی کوششوں میں مصروف میں درحقیقت یہ ہی لوگ ان کی حکومت کے خلاف سازش میں مصروف ہیں۔ وزیراعظم عمران خان سے مولانا فضل الرحمٰن کی سازش کی مخبری کرنے والے سیاستدانوں کو محض سیاسی بیانات پر غداری کے مقدمات چلانے کا مشورہ انتہائی ناعاقبت اندیشانہ ہے، بدقسمتی سے قیام پاکستان کے چند سال بعد سے پاکستان میں غدار سازی کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا اس نے شیر بنگال، عبدالحق کو بھی نہیں بخشا ان کو محض سیاسی اختلاف کی بنا پر پاکستان کا غڈار قرار دیا گیا جبکہ وہ مشرقی پاکستان کے وزیراعلیٰ پاکستان کے وزیر داخلہ رہنے کے علاوہ 1940 میں قرار داد پاکستان پیش کرکے ہمارے لئے ایک علیحدہ مملک کےقیام کی راہ ہموار کی۔

پاکستان کے غریب عوام کی حالت زار عمران خان سے متقاضی ہے کہ وہ ملک کی مہنگائی، بےروزگاری، پٹرول اور یوٹیلیٹی بلز کی شرح میں کمی پر اپنی تمام توانائی صرف کریں لیں وہ ناعاقبت اندیش مشرف کی باقیات کے چنگل میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ عمران خان نے طویل خاموشی کےبعد آٹا اور چینی بحران سے اپنے دو اہم دست بازو جہانگیر خان ترین اور مخدوم خسرو بختیار کو کلین چٹ دے دی ہے لیکن انہوں نے ابھی تک ملک کو درپیش ٓٹا اور چینی اسکینڈل میں ملوث مافیا کے خلاف فیصلہ کن قدم نہیں اٹھایا جس کے نتیجے میں جہانگیر خان ترین اور مخدوم خسروبختیار کی بے گناہی پر عوام مشکل سے یقین کرنے پر تیار ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top