تازہ ترین
بہت دیر کردی ۔۔۔!!

بہت دیر کردی ۔۔۔!!

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے حکمران چور ڈاکو کرپشن اور اپنے سیاسی مخالفین کو چھوڑونگا نہیں، جیلوں میں بند کرنے کی گردان سے نکل کر ملک کے غریب، بھوک اور افلاس سے نڈھال عوام کی موت سے ہمکنار ہوتی اقتصادی حالت زار کی طرف متوجہ ہوئے۔

وزیراعظم پاکستان کو ملک میں ذخیرہ اندوز مافیا سے متعلق بہت پہلے سے علم تھا گزشتہ ماہ کابینہ کے بھرے اجلاس میں وہ اعتراف کرچکے تھے کہ ان کو علم ہے کہ آٹا کی قلت اور قیمتوں میں اضافے میں کونسی مافیا ملوث ہے، بڑھتی ہوئی مہنگائی کے باعث لوگوں کی زندگی مشکلات سے دوچار ہے، مافیا اور ذخیرہ اندوز ملک میں مہنگائی کررہے ہیں، روز بروز بڑھتی ہوئی قیمتوں کے پیش نظر عوام کو توقع تھی کہ اب جبکہ حکومت کو مہنگائی اور ذخیرہ اندزوں سے متعلق مکمل معلومات حاصل ہوچکی ہیں حکومت مافیا سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف اپنی اعلان شدہ پالیسی کے مطابق سخت کارروائی کرکے مہنگائی پر قابو پانے کی کوشش کرے گی لیکن ریاست مدینہ کی طرح فلاحی ریاست بنانے کی دعویدار حکومت خاموش تماشائی بنی رہی اس دوران انکشاف ہوا کہ آٹا کی قلت اورمہنگائی میں دیگر کرپٹ افراد اور ذخیرہ اندزوں کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف اور حکومت کی بعض اہم شخصیات شامل ہیں، ان لوگوں نے انتہائی خفیہ انداز سے ملک سے تین لاکھ ٹن گندم اور آٹا افغانستان سری لنکا اور انڈونیشیا کو مقامی مارکیٹ سے اتنہائی سستے داموں گندم خرید کربرآمد کردی اور پھر جن لوگوں کی بدولت ملک کے غریب عوام کے لئے روٹی کے دو نوالوں کا حصول ناممکن ہوگیا وہ بیرون ملک مہنگے داموں تین لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کی کوششیں کررہا تھے وہ تو اللہ بھلا کرے عمران خان کی کابینہ کے ایک رکن کا جس نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں دوران گفتگو اعتراف کیا کہ گندم کی بیرونی ممالک درآمد اور پھر برآمد کی اس نے کابینہ کے اجلاس میں مخالفت کی تھی لیکن کابینہ نے اسکی بات پر توجہ نہ دی جس کے نتیجے میں آج یہ صورتحال پیدا ہوئی ہے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے غریب عوام کی جیب پر آٹا چینی مہنگا کرکے چودہ ارب روپے کا ڈاکہ ڈال کر ناجائز منافع کمایا، سرحدی علاقوں خاص طور پر افغانستان گندم برآمد کرنے سے متعلق طور خم پر کسٹم حکام بھی گندم برآمد کرنے والی کمپنی یا ان کے مالکان کے نام بتانے پر تیار نہیں۔

وزیراعظم اس سے قبل یہ کہہ چکے ہیں کہ مہنگائی کے معاملہ پر ان کو گمراہ کیا گیا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیراعظم کو گمراہ کرنے والے کون لوگ ہیں اور وہ اب تک آزاد کیوں پھر رہے ہیں، ابھی گندم کا بحران ختم بھی نہ ہونے پایا تھا کہ چینی کے بحران نے مہنگائی نے جلتی آگ پر تیل کا کام کیا، ملک کی پنتالیس فیصد سے زائد چینی کی پیداوار پر تحریک انصاف کے رہنماؤں کا کنٹرول ہے جبکہ وزیراعظم ایک سے زائد بار عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ ملک میں کرپشن ہوتی ہے تو مہنگائی ہوتی ہے، اب کرپشن اور مہنگائی کا چولی دامن کا ساتھ واضح ہوچکا ہے لیکن ہمارے حکمران ان کے خلاف اس طرح نہیں گرج یا برس رہی ہے جیسے اپنے مخالف سیاسی رہنماؤں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا سلسلہ بلند ہوتا جارہا ہے، یہ صحیح ہے کہ ملک کی شکر کی صنعت پر اپوزیشن اور حکمران جماعتوں کے صف اول کے رہنماؤں کی اجارہ داری ہے لیکن آصف علی زرداری اور شریف خاندان کی فیکٹریاں کافی عرصہ سے بند ہیں۔ اس وقت شکر کی صنعت پر مکمل طور پر جہانگیرترین، ہمایوں اختر، خسروبختیار اور ذوالفقار مرزا کی اجارہ داری ہے جبکہ گزشتہ روز ہمارے وزیراعظم نے مہنگائی کےخلاف اعلان جہاد کرتےہوئے حسب معمول عوام کو مہنگائی سے دو چار کرنے کا مجرم سابق حکمرانوں کو قرار دیا ہے جبکہ یہ حقیقت ہے کہ سابق حکمرانوں کے دور اور آج کی مہنگائی کی شرح میں زمیں و آسمان کا فرق ہے، سابق دور میں غریب تین وقت نہیں دو وقت کھانا کھانے کی سکت رکھتا تھا لیکن موجودہ دور میں اب اس کے لئے ایک وقت کی روٹی کا حصول بھی ناممکن ہوچکی بڑھتی ہوئی مہنگائی سے اہل وطن کی مشکلات کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہوسکتا ہے کہ وزیراعظم پاکستان خود اعتراف کرچکے ہیں کہ دو لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ لینے کے باوجود ان کو گھر کے اخراجات پورے کرنے میں دشواری پیش آتی ہے اگر وزیراعظم کو دو لاکھ روپے ماہانہ میں مہینہ بھر زندگی گزارنے میں مشکل پیش آتی ہے تو اس خاندان کے مصائب اور مشکلات کس حد تک پہنچی ہوتی ہیں جن کی آمدنی بارہ سے اٹھارہ ہزار روپے ماہانہ ہے جس میں اس کو اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے ساتھ کرایہ مکان اور بیماری کی صورت میں ڈاکٹرز کی بھاری فیسیں بھی ادا کرنی ہوتی ہے رہ گیا بچوں کی تعلیم کے اخراجات تو اس سوال کا جواب کراچی،لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی کی سڑکوں پر غول در غول بھیک مانگتے ہوئے معصوم بچوں کی شکل میں مل جائے گا۔

تحریک انصاف کے ابتدائی دنوں کے ساتھی اور برسراقتدار آنے سے قبل ہی عمران خان کے نامزد کردہ وزیر خزانہ اسد عمر کہتے ہیں کہ مہنگائی کے مجوزہ اعدادوشمار کے ساتھ کوئی سیاسی حکومت نہیں چل سکتی، ہمارے موجودہ غیر ملکی مالی ادارہ کے نامزد کردہ مشیر خزانہ، آئیایم ایف کی ہدایت پر بجلی اور گیس کی موجودہ ناقابل برداشت شرح میں مزید کئی گنا اضافہ کرنے کی تجاویز پر عمل درآمد کرنے پر زور دے رہے ہیں گیس کی قیمتوں میں اضافہ یکم فروری سےسخت عوامی ردعمل کے خطرے کے پیش نظر فی الحال موخر کردیا گیا ہے جبکہ اسد عمر کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی ضرورت نہیں مہنگائی کی وجہ سے معیشت کا پیسہ جام ہے اس کے خاتمے کے لئے فوری ایکشن کی ضرورت ہے، عوام کے چیخ و پکار پر حکومت نے گندم کی درآمد پرپابندی کی طرح چینی کی قیمتوں پر قابو پانے کے لئے اسکی درآمد پر بھی پابندی لگانے کا فیصلہ کیا ہے لیکن حکومت راتوں رات غریب عوام کی پھٹی ہوئی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے والی گندم اور چینی مافیا کے سرغنوں کو گرفتار کرکے جیلوں میں ڈالنے کے بجائے الٹے ان کے ہی سپرد ضروریات زندگی کی شیا کی قیمتوں کو کم کرنے کی ذمے داری سپرد کردی ہے بلاشبہ مہنگائی کے خلاف وزیرعظم کی کوششوں اور فکر پر شک کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن وزیراعظم جن افراد پر مہنگائی کے انسداد کی ذمے داری عائد کررہے ہیں وہ تو پاکستان کے عوام کے نہیں آئی ایم ایف کے دیے ہوئے ایجنڈے کے پابند ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم کے تازہ ترین عہد کہ عام آدمی کے کچن میں روزمرہ کے استعمال کی اشیا ہرحال میں پہنچائیں گے، وزیراعظم نے اپنے مشیر خزانہ کو بھی ہدایت کی کسی بھی مد سے پیسے نکالیں وہ قوت خرید نہ رکھنے والوں کو سہولتیں دیں آٹا گھی، چاول، دالیں اور چینی کی قیمتوں میں کمی کی جائے، آئندہ چند دنوں میں پتہ چل جائے گا کہ ہمارے مشیر خزانہ یا دیگر بااثر وزرا اور پارٹی عہدیدار وزیراعظم کی ہدایت کا کتنا پاس رکھتے ہیں جبکہ عمران خان کی طرح شریف خاندان کے کٹر مخالف اور پیپلزپارٹی کے ممتاز رہنما چودھری اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی اور معاشی فیصلے کرنے والے زیادہ ترایسے افراد ہیں جن کی ملازمتیں ملک سے باہر ہیں بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ ان کا مستقبل جڑا ہوا ہے۔

دوسری طرف اسد عمر جن کے دوبارہ وزیر خزانہ کی افواہیں گرم ہیں، وزیراعظم پاکستان کی طرف سے گلا پھاڑ پھاڑ کر اعلان کررہے ہیں کہ عمران خان نے مہنگائی کے ذمے داروں کو سخت ترین سزائیں دینے کا فیصلہ کررکھا ہے لیکن عوام عمران خان اور حکومت کی طرف سے کئےگئے اعلانات اور وعدوں پر اب یقین کرنے کو تیار نظر نہیں آتے، اسد عمر کے بیانات پر پاکستان کے تین بڑے شہر کراچی، لاہور اور راولپنڈی کے عوام نے اپنا ردعمل میں کہا کہ وزیراعظم کے حوالے سے یہ وزیراعظم ایک اور یوٹرن ہے، وزیراعظم اچھی طرح جانتے ہیں کہ آٹااور چینی کی قیتموں میں اضافے کے کون لوگ ذمے دار ہیں، ایک طرف ملکی وسائل پر ڈاکہ ڈالنے اور دولت کو بیرون ملک منتقل کرنے والوں کے ساتھ درگزرسے کام لینے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں اور دوسری جانب آزاد کشمیر کے وزیرعظم کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ گھر میں چوری کرنے والوں کو کسی قیمت پر معاف نہیں کرونگا، یقیناً قومی دولت لوٹنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کرنی چاہئے لیکن جن لوگوں نے گزشتہ سولہ ماہ کے دوران غریب عوام کی جھونپڑیوں کو لوٹا ہے ان سے آنکھیں کیوں چرائی جارہی ہیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top