بلوچستان کی ترقی تک چین سے نہیں بیٹھوں گا، وزیراعظم

کوئٹہ: وزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہےکہ بلوچستان کے معدنی وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کی عوام کا ہے۔ جب تک بلوچستان ترقی میں باقی صوبوں تک نہیں پہنچ جاتا، تب تک میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت صوبہ بلوچستان کی انتظامی صورتحال پر جائزہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں وزیرِ اعظم کو چیف سکرٹری بلوچستان کی طرف سے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں پر پیش رفت، امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

وزیرِ اعظم کو اجلاس میں بتایا گیا کہ بلوچستان میں اس وقت آبادی کا ایک بڑا حصہ خطِ غربت سے نیچے ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ روزگار کے مواقع کم ہونا ہے۔ اس حوالے سے حکومت مختلف ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہی ہے اور جاری منصوبوں میں مقامی لوگوں کو روزگار کی فراہمی میں ترجیح دی جا رہی ہے۔ اجلاس میں شرکاء کی طرف سے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔ اجلاس میں پورے صوبے کیلیے ایک جامع پیکیج کے اعلان کی تجویز دی گئی جس میں کوسٹل ہائی وے کے اطراف سیاحت کا فروغ، مقامی افرادی قوت کی تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے اداروں کا قیام شامل ہے۔

وزیرِ اعظم نے صوبائی کابینہ کے ممبران کا شکریہ ادا کرتےہوئے کہا کہ بلوچستان کی ترقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ بلوچستان کی باصلاحیت افرادی قوت ملک کا قیمتی اثاثہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبوں کی مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔ جب تک بلوچستان ترقی میں باقی صوبوں تک نہیں پہنچ جاتا، تب تک میں چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ مجھے بلوچستان کابینہ کا تعاون درکار ہے۔ منصوبوں پر عمل درآمد آپکے تعاون سے یقینی ہو سکے گا۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ بلوچستان کے معدنی وسائل پر سب سے پہلا حق بلوچستان کی عوام کا ہے۔بلوچستان کے طلبہ و طالبات کیلئے وظائف کا سلسلہ جو روک دیا گیا تھا۔ میں اسے دوبارہ شروع کرونگا۔ ہماری حکومت کی شمالی یا جنوبی سے کوئی غرض نہیں، ہمیں بلوچستان کے پسماندہ علاقوں کی اور پورے صوبے کی مجموعی ترقی کیلئے کام کرنا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More