تازہ ترین
سانحہ بلدیہ فیکٹری کو آٹھ سال بیت گئے، متاثرین تاحال انصاف کے منتظر

سانحہ بلدیہ فیکٹری کو آٹھ سال بیت گئے، متاثرین تاحال انصاف کے منتظر

کراچی:(11 ستمبر 2020) بلدیہ ٹاؤن میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں آتشزدگی اور اس میں دو سو انسٹھ افراد کے زندہ جل جانے کے واقعے کو نو سال گزر گئے،اپنے پیاروں کو کھونے والے سیکڑوں شہری آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کراچی میں ہونے والے سانحہ بلدیہ فیکٹری کو نو برس گزر گئے مگر دو سو ساٹھ افراد کو زندہ جلانے والے سفاک قاتل انجام تک نہ پہنچ سکے،جبکہ کیس تاحال انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر التوا ہے،اس واقعے پر ٹربیونلز بھی بنائے گئی جی آئی ٹی بھی بنائی گئی لیکن ملزمان کو سزا نہ مل سکی۔واقعے کا مقدمہ پہلے سائٹ بی تھانے میں فیکٹری مالکان، سائٹ لمیٹڈ اور سرکاری اداروں کے خلاف درج کیا گیا ، فیکٹری میں آگ لگنے کی تحقیقات میں مختلف کمیٹیاں بنائی گئی اسی کے ساتھ جوڈیشل کمیشن بھی قائم کیا گیا لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا۔

چھ فروری 2015 کو رینجرز نے عدالت میں رپورٹ جمع کرائی کہ کلفٹن سے ناجائز اسلحہ کیس میں گرفتار ملزم رضوان قریشی نے انکشاف کیا کہ فیکٹری میں آگ لگی نہیں،لگائی گئی تھی۔

آگ لگانےکی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا بیس کروڑ روپے کا بھتہ تھا، ملزم کی جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق حماد صدیقی نے بھتہ نہ دینے پر رحمان عرف بھولا کو آگ لگانے کے احکامات دئیے جس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر آگ لگا ئی۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم کے کارکن عبدالرحمن بھولا اور زبیر چریا گرفتار ہیں،کیس میں کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما روف صدیقی، کارکن زبیر عرف چریا اور عبدالرحمٰن بھولا پر فرد جرم عائد کی تھی اور علی حسن قادری کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس میں ایم کیو ایم کے سابق سیکٹر انچارج عبدالرحمٰن عرف بھولا نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے ایک اعترافی بیان میں کہا تھا کہ فیکٹری کے مالکان نے بھتے کی رقم اور فیکٹری میں شراکت داری دینے سے انکار کیا جس کی وجہ سے اس نے زبیر عرف چریا اور دیگر افراد کے ساتھ مل کر حماد صدیقی کے کہنے پر بلدیہ میں قائم گارمنٹس فیکٹری کو آگ لگائی۔جبکہ اس ہی کیس میں رینجرز نے سندھ ہائیکورٹ میں ایک رپورٹ بھی جمع کرائی تھی جس میں ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ایک گروہ کے ملوث ہونے کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔

دو ستمبر2020 کو گواہان کےبیانات اوروکلا کے دلائل مکمل ہونے پردہشت گردی کی خصوصی عدالت نے مقدمہ کا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے، جو17 ستمبرکوسنایا جائیگا۔

پراسیکیورٹر ساجد محمود شیخ نے امید ظاہر کی ہے کہ جلد دیگر پانچ گواہوں کے بھی بیان قلمبند کرکے ملزمان کو سزا دلائی جائے گی۔

Comments are closed.

Scroll To Top