یو اے ای کا ماحول گرین شرٹس کیلئے موزوں ہے ، بابر اعظم

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا ماحول گرین شرٹس کیلئے موزوں ہے ،امارات کے میدانوں پر پاکستان کا ریکارڈ شاندار ہے۔

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ یو اے ای میں کھیل کر عالمی نمبر ایک بنے مگر اچھے نتائج کیلئے دیگر ٹیموں کی طرح مثبت کرکٹ کھیلنا ہوگی،مڈل آرڈر اور ڈیتھ بالنگ کے شعبوں میں جدوجہد کا شکار ہیں،اس حوالے سے حالیہ کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں مگر یہی کرکٹ ہے ۔

ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں شرکت سے قبل بابر اعظم کا خیال ہے کہ وہ امارات کی وکٹوں اور کنڈیشنز سے بخوبی واقف ہیں لہٰذا ان میدانوں پر بہترین ریکارڈ ان کیلئے کارآمد ثابت ہوگا اور گرین شرٹس بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے ۔

ان کا کہنا تھا کہ امارات کے میدانوں پر کھیلتے ہوئے انہوں نے انفرادی اور اجتماعی طور پر عمدہ کھیل کی بدولت عالمی نمبر ایک ٹیم کا درجہ پایا اور ثابت کیا کہ ماحول پاکستانی ٹیم کیلئے پوری طرح سازگار ہے اور یہاں اچھی کارکردگی کا تسلسل اس کا ثبوت بھی ہے ۔

قومی کپتان کے مطابق دور حاضر میں بیشتر ٹیمیں مثبت کرکٹ کھیلنے کی کوشش کرتی ہیں اور پاکستانی ٹیم کو بھی ضرورت ہے کہ وہ اسی پہلو کا خیال رکھتے ہوئے کھیلے تو اس کیلئے کامیابی کا حصول مشکل نہیں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ محض اسٹرائیک ریٹ کی خاطر گہرائی کے ساتھ کھیلنا ممکن نہیں ہوتا لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ محمد رضوان کے ساتھ تادیر کریز سنبھالے رکھیں بلکہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ اپنا کھیل تبدیل کئے بغیر رنز کی فراہمی ممکن بناتے رہیں جس کیلئے یہ بات پیش نظر رہتی ہے کہ ہم میں سے کوئی ایک اننگز کے بیشتر حصے میں کریز پر موجود رہے۔

بابر اعظم نے اعتراف کیا کہ مختصر فارمیٹ میں ریکارڈ فتوحات کے باوجود پاکستانی ٹیم دو شعبوں میں جدوجہد کر رہی ہے جس میں سے ایک مڈل آرڈر بیٹنگ اور دوسری ڈیتھ بالنگ ہے جس کیلئے مختلف کامبی نیشن آزمائے گئے لیکن بدقسمتی سے حالیہ کچھ کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں مگر یہی کرکٹ ہے کیونکہ کھلاڑی کامیابی کی ضمانت کے ساتھ منتخب نہیں کئے جاتے تاہم ہر ایک کو یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اچھی کارکردگی ہی انہیں ٹیم میں مستقل جگہ دلا سکتی ہے ۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ جب بھی نئی انتظامیہ آتی ہے تو اسے ماحول سے ہم آہنگی اور جیت کی راہیں ہموار کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے اور راتوں رات نتائج تبدیل نہیں ہو سکتے تاہم کپتان کی حیثیت سے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ کی فتح ان کی اولین ترجیح ہے اور میگا ایونٹ کی تیاری کرتے ہوئے یہی مائنڈسیٹ درکار بھی ہوتا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More