آزاد کشمیر: 1 کھرب 63 ارب 70 کروڑ کا بجٹ پیش

مظفر آباد: آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کے مالی سال 2022-23 کا بجٹ اجلاس اسپیکر کے بجائے ڈپٹی اسپیکر کی صدارت میں ہوا۔ 1 کھرب 63 ارب 70 کروڑ روپے کا بجٹ پیش کردیا گیا۔

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا بحٹ وزیر خزانہ عبدالماجد نے پیش کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں عوام کے لیے سیکڑوں منصوبے لے کر آرہے ہیں۔

نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ترقیاتی کاموں کے لیے 28 ارب 50 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

اپوزیشن کا کہنا تھا کہ حکومت نے اسٹینڈنگ کمیٹیوں کو اسمبلی پروسیجرل رولز سے ہٹ کر بنایا، صرف حکومتی اراکین پر مشتمل قائمہ کمیٹیاں قائم کی گئیں۔

اپوزیشن نے کہا کہ ایوان کی قائمہ کمیٹوں کی سربراہی وزرا نہیں کرسکتے، حکومت نے کمیٹیاں وزرا کی سربراہی میں بنائی ہیں۔ بجٹ اجلاس کے دوران متحدہ اپوزیشن نے اسمبلی کی سیڑھیوں پر دھرنا دیا۔

چوہدری لطیف اکبر نے کہاکہ پہلی بار ایسا ہوا کہ اجلاس حکومت بلائے اور حکومت ہی کورم توڑ دے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے بہت کوشش کی کہ ہماری بات ایوان کے اندر ہو۔

چوہدری لطیف اکبر کا کہنا تھا کہ وزیراعظم آزاد کشمیر دن بھر سوئے رہتے ہیں، وزیراعظم دن میں جاگا کریں یا دفتری اوقات کار کو رات میں تبدیل کرلیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ یاسین ملک کی سزا کے خلاف مظاہرے میں بھی کوئی وزیر شریک نہیں ہوا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More