نیب کا احتساب کون کرے گا،چیف جسٹس اطہر من اللہ

اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بریت کیخلاف نیب اپیلوں پر سماعت۔ عدالت کا نیب پر اظہار برہمی، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ آپ پر سیاسی انجینیرنگ کا الزام ہے۔ ہم نیب کو کیوں نہ ذمہ دار ٹھہرائیں۔ آپ نے ہمارا وقت ضائع کیا۔ آپ کیس نہیں بنا سکے تو پھر عدالتوں پر چیزیں ڈال دیتے ہیں۔ آپ لوگوں کا احتساب کرتے ہیں، آپ کا احتساب کون کرے گا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس عامر فاروق پر مشتمل ڈویژن بینچ نے ارسس ٹریکٹر اور دیگر ریفرنسز میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بریت کیخلاف نیب اپیلوں پر سماعت کی۔ ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نیب جہانزیب بھروانہ نے کہاکہ آصف زرداری کی بریت کی چار اپیلیں زیر سماعت ہے۔ اصل ریفرنس اور دستاویزات غائب تھیں اس کے باوجود نیب کورٹ نے فیصلہ کردیا اوریجنل ریکارڈ مسنگ تھے اور جو گواہوں کے بیان تھے وہ بھی گم تھے۔ جب اصل ریکارڈ موجود نہیں تھا تو بریت کی درخواست پر فیصلہ کر دیا گیا۔ اس عدالت اور لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے بھی اس پر انکوائری کرائی تھی۔

جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ 2014 سے آج 7 سال ہو گئے ہیں آپ کی اپیلیں یہاں زیر التوا ہیں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہاکہ آپ پر سیاسی انجینیرنگ کا الزام ہے۔ ہم نیب کو کیوں نہ ذمہ دار ٹھہرائیں آپ نے ہمارا وقت ضائع کیا۔ اگر غلطی ہوئی تھی تو اس وقت کے چیئرمین نیب کو بھی ذمہ دار ہونا چاہیے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نیب پراسیکیوٹر سے کہاکہ اکانومی آپ کے ایکٹ سے متاثر ہوتی ہے اگر آپ فئیر نہیں ہیں۔ آپ کیس نہیں بنا سکے تو پھر عدالتوں پر چیزیں ڈال دیتے ہیں۔ آپ نے خود ٹرائل کرایا اس عدالت کا کیا قصور ہے نا کوئی ڈاکومنٹ لا سکے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ آپ نے نیب کورٹ میں کہا ہوا ہے کہ جو ریکارڈ دستیاب ہے اسی پر ہم دلائل دیں گے۔

چیف جسٹس نے کہاکہ نیب آرڈیننس میں کہاں لکھا ہے کہ آپ جب کوئی غلط ریفرنس دائر کریں گے تو آپ کے خلاف بھی کارروائی ہوگی، آپ کو دیکھنا چاہیے تھا کہ ریکارڈ آپ کے پاس ہے یا نہیں۔ آپ لوگوں کو ڈی فیم تو نہیں کر سکتے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ مجھے ابھی تک یہ سمجھ نہیں آیا آپ ابھی چاہتے کیا ہیں۔

پراسیکیوٹر نیب جہانزیب بھروانہ نے کہاکہ یہ اپیلیں نمٹا دی جائیں یا ریکارڈ ملنے تک اس کو ملتوی کردیا جائے۔ جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ یہ جو آپ کر رہے ہیں، یہ عوام کا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آپ لوگوں کا احتساب کرتے ہیں آپ کا احتساب کون کرے گا۔ چیف جسٹس نے ہدایت کی کہ پروسیکوٹر جنرل کو کہیں وہ یہ معاملہ دیکھیں۔ آپ کے ایک نوٹس سے لوگوں کی زندگیوں پر اثر ہوتا ہے۔

نیب پروسیکیوٹر جہانزیب بھروانہ نے کہاکہ میں پہلا ہوں گا جو استعفیٰ دے کر آپ کے پاس سامنے پیش ہوں گا جس پر چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے مسکراتے ہوئے کہاکہ آپ کا استعفی ریجیکٹڈ ہے۔ عدالت نے معاملہ پروسیکوٹر جنرل نیب کو دیکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More