ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کالعدم، اسمبلی بحال،عدم اعتماد پر ووٹنگ کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے قومی اسمبلی اور کابینہ کو تین اپریل کی حیثیت سے بحال کردیا جبکہ عدم اعتماد کی ووٹنگ کے لیے 9 اپریل کو اجلاس بلانے کی ہدایت بھی کردی۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے چار روزہ سماعت کے بعد از خود نوٹس کیس کا مختصر فیصلہ سنایا جبکہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرنے کا اعلان کیا۔چیف جسٹس نے فیصلہ سنانے سے قبل چیف الیکشن کمشنر کو رسٹرم پر بلایا۔ چیف الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن ہر وقت الیکشن کروانے کےلیے تیار ہے۔ہم اسٹیٹ آف دی آرٹ حلقہ بندیاں کرانا چاہتے ہیں۔2023کے عام انتخابات کیلئے بھی حلقہ بندیوں کی بات کی تھی۔ خیبرپختونخوا میں فاٹا کے انضمام کے بعد سیٹوں میں ردوبدل ہوا ہے۔

سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے 8 صفحات پر مشتمل مختصر فیصلے میں ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو کالعدم قرار دیا اور وزیراعظم کی قومی اسمبلی توڑنے کی سفارش جبکہ صدر مملکت کے اسمبلی تحلیل کرنے کے حکم کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے تین اپریل کی حیثیت سے بحال کردیا۔

سپریم کورٹ نے قومی اسمبلی کا اجلاس 9 اپریل 2022 کو بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کی کارروائی جاری رکھنے کا حکم بھی دیا اور ہدایت کی کہ اگر عدم اعتماد کامیاب ہوجاتی ہے تو قومی اسمبلی نئے وزیراعظم کا انتخاب کرے اور اگر ناکام ہوتی ہے تو عمران خان بطور وزیراعظم اپنا کام جاری رکھیں۔

مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 63 اے پر عدالتی فیصلے کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔حکومت کسی صورت اراکین کو ووٹ ڈالنے سے نہیں روک سکتی۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم اسمبلی تحلیل کرنے کے اہل نہیں تھے لہذا ایوان کو بحال کیا جائے اور اسپیکر ہفتے کو دوبارہ اجلاس طلب کریں۔ عدم اعتماد کامیاب ہو تو فوری نئے وزیراعظم کا الیکشن کرایا جائے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق عمران خان بطور وزیراعظم جبکہ اُن کی کابینہ کے اراکین کی حیثیت بھی بحال ہوگئی، اسی طرح معاونین اور مشیر بھی عہدوں پر بحال ہوگئے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More