عمران خان کو سیاست سے نکالنے کیلئے نیا آئین لکھنا پڑے گا، اسد عمر

رہنما تحریک انصاف اسد عمر کا کہنا ہے کہ عمران خان کو ناک آؤٹ کرنے کے لیے نیا آئین لکھنا پڑے گا۔ شہباز گل کے بیان سے اختلاف ضرور ہے لیکن جس انداز سے گرفتاری عمل میں لائی گئی وہ قابل مذمت ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی اسد عمر نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کہہ چکی ہے کہ واضح بیرونی مداخلت نظر آئی، عمران خان بند کمرے کی سازش کے خلاف کھڑا ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی انتخابات میں پنجاب کے عوام نے امپورٹڈ نظام کو مسترد کیا اور بیرونی مدد کے باوجود عوام نے کرپٹ ٹولے سے اقتدار واپس چھینا۔

ان کا کہنا تھا صبح سے شام تک حکومت والے فارن فنڈنگ سے متعلق پریس کانفرنسیں کر رہے تھے، اب یہ حکومت اپنے آپ کو اندر سے کھوکھلا محسوس کر رہی ہے، اب یہ آخری پھڑپھڑاہٹ ہمیں نظر آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ مقدمہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہےکہ تحریک انصاف پاکستان کے لیے خطرہ ہے۔ عمران خان اس وقت روایتی سیاسی نظام کے خلاف کھڑا ہوا ہے، آج عمران خان نے میٹنگ کال کر رکھی ہے، میٹنگ میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان ہو گا۔

رہنما تحریک انصاف کا کہنا تھا شہباز گل کی بات سے اختلاف ہو سکتا ہے، اس پر مقدمہ بنائیں سوال پوچھیں لیکن یہاں شیشے توڑے گئے بٹ مارے گئے، حکومت بدحواسی کا شکار ہے اسی لیے اس طرح کے فیصلےکر رہی ہے۔

ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسد عمر کا کہنا تھا لوگوں نے سامنے آکر واضح کر دیا کہ الیکشن کمیشن نے جھوٹے الزام لگائے ہیں، بڑا واضح طور پر لکھا ہےکہ کس سے پیسہ لینا ممنوع ہے، جھوٹا بیانیہ بنایا جا رہا ہے اور فارن فنڈنگ میں بدنام کیا جا رہا ہے۔

اسد عمر کا کہنا تھا الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں چار خامیاں ہیں، حقائق جھوٹے ہیں اور قانون کی غلط تشریح کی گئی ہے، جو اختیار الیکشن کمیشن کے پاس نہیں اسے استعمال کیا گیا ہے، رپورٹ میں واضح جانبداری نظر آ رہی ہے، فنڈ دینے والوں کے بیانات نے ثابت کر دیا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ جعلی ہے۔

ان کا کہنا تھا عمران خان کے بیان حلفی پر شور مچا ہوا ہے حالانکہ وہ ایک رپورٹ ہے، عمران خان نے سرٹیفکیٹ جمع کرائے بیان حلفی نہیں دیا، ظاہری طور پر جانبداری یہاں پر نظر آ رہی ہے، بند کمروں میں منصوبہ بنایا گیا، حرام کے پیسے سے ضمیر خریدے گئے، اس بار سچا اور غیرت مند لیڈر عمران خان اس سازش کے خلاف کھڑا ہو گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اب جو صورتحال پیدا ہوئی اس کی وجہ 17 جولائی کے انتخابات ہیں، پنجاب کے عوام جس طرح نکل کر عمران خان کے ساتھ کھڑے ہوئے اس کے بعد کھلبلی مچی ہوئی ہے، ان کی پریس کانفرنسوں کے فوری بعد الیکشن کمیشن کی رپورٹ آجاتی ہے، ان کی پریس کانفرنسوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ملک میں کوئی اور مسئلہ ہی نہیں ہے، یہ ٹیسٹ کیس ہو رہا ہے ایک ایک کرکے پھر سب کی باری آنے والی ہے۔

سیکرٹری جنرل پی ٹی آئی نے کہا کہ تحریک انصاف اور فوج کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش ناکام ہو گی، فضل الرحمان، خواجہ آصف، نواز شریف، مریم نواز اور آصف زرداری کے بیان دیکھ لیں وہ فوج کے بارے میں کیا کہتے رہے۔

عمران خان نے بیان حلفی نہیں سرٹیفیکیٹ جمع کرائے ہیں، یہ کیس 2008 سے 2013 کے فنڈنگ سے متعلق ہے، الیکشن کمیشن کے پاس اختیار ہی نہیں کہ آئین کی تشریح کرے، قانون کی تشریح کا اختیار عدالت کے پاس ہے۔

اسد عمر کا یہ بھی کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں باقاعدہ سیاسی بیانات ہیں، ن لیگ کے 9 بینک اکاؤنٹس اسکروٹنی کمیٹی میں جمع ہی نہیں کرائے گئے، ن لیگ کے صوبائی بینک اکاؤنٹس کی اسٹیٹمنٹ بھی جمع نہیں کرائی گئی، یہ الیکشن کمیشن پی ڈی ایم کے حلیف کے طور پر کام کر رہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اسد عمر نے کہا کہ کوئی 62 ون ایف کی تلوار نہیں لٹک رہی، آپ کو عمران خان کو ناک آؤٹ کرنے کے لیے نیا آئین لکھنا پڑے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More