جمہوریت آئین کا بہترین ڈھانچہ ہے، عدالتی ریمارکس

اسلام آباد: آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے صدارتی ریفرینس اور سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ پارلیمنٹ نے آج تک آرٹیکل 63 اے کے تحت رکن اسمبلی کی نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کی گئی؟ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا براہ راست سسٹم پر اثر پڑ سکتا ہے۔ دس سے پندرہ اراکین منحرف ہو جائیں تو یہ سسٹم کا مذاق بنانے والی بات ہے۔

آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کیلئے دائر صدارتی ریفرینس اور سپریم کورٹ بار کی درخواست پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے کی۔

سپریم کورٹ کے 2018 کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے اٹارنی جنرل پاکستان خالد جاوید خان نے کہا کہ عدالت نے تمام انتخابی امیدواروں سے کاغذات نامزدگی کیساتھ بیان حلفی مانگا۔ جو قانوناً درکار نہیں تھا۔ تاہم عدالت نے انتحابی عمل میں شفافیت کے لیے بیان حلفی کے بغیر کاغذات نامزدگی نامکمل قرار دیئے تھے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کو 62 ون ایف کے ساتھ کیسے جوڑیں گے؟ کیا کسی فورم پر رشوت لینا اور ثابت کیا جانا ضروری نہیں۔ رشوت لینا ثابت ہونے پر 62 ون ایف لگ سکتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی قانونی طور پر بددیانتی ہے۔ جس پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق ہوگا۔ عدالتی استفسار پر اٹارنی جنرل نے کہا سب سے پہلے خیانت حلقے کے ووٹرز کے ساتھ ہوگی۔ جس نے رکن کو اسکی سیاسی وابستگی پر اپنا ووٹ دیا جو وہ واپس نہیں لے سکتا۔

جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے وزیراعظم نے کمالیہ کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے اٹارنی جنرل سے دریافت کیا کہ آپ نے انکی بات کا نوٹس لیا ہے۔ جسٹس جمال مندوخیل نے سوال کیا کہ کیا وزیراعظم کو عدلیہ پر اعتماد نہیں ہے؟ اٹارنی جنرل بولے عدالت کو تقاریر سے متاثر ہونا بھی نہیں چاہیئے۔ وزیر اعظم کو عدلیہ پر مکمل اعتماد ہے۔

دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کی خلاف ورزی کا سسٹم پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ دس سے پندرہ اراکین منحرف ہو جائیں تو یہ سسٹم کا مذاق بنانے والی بات ہے۔ پندرہ لوگ حکومت بدل کر دوبارہ الیکشن لڑیں تو میوزیکل چیئر چلتی رہے گی۔ جس پر اٹارنی جنرل بولے آرٹیکل 63 اے سسٹم بچانے کیلئے ہے۔

چیف جسٹس نے کہا ابھی تک ہوا میں گھوڑے چل رہے ہیں۔ پارلیمنٹ نے آج تک آرٹیکل 63 اے کے تحت نااہلی کی مدت کیوں مقرر نہیں کی؟ اٹھارہویں ترمیم میں آرٹیکل 63 اے کیا سوچ کر شامل کیا گیا۔ جمہوریت آئین کا بہترین ڈھانچہ ہے۔ جمہوریت کے لیے کیا اچھا ہے یہ سوچ کر دلائل دیں۔ چیف جسٹس نے وقت کی کمی کے باعث وکلا اور اٹارنی جنرل کو دلائل مختصر رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کل دوپہر ایک بجے تک ملتوی کردی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More