تازہ ترین
کراچی میں اقلیتوں کی قدیم عبادت گاہیں اور ان کی صورتحال

کراچی میں اقلیتوں کی قدیم عبادت گاہیں اور ان کی صورتحال

کراچی: (شفقت عزیز) حیات کی رو سے دیکھا جائے تو معاشرے میں بسنے والا ہرشخص کسی بھی قسم کی تفریق کے بغیر یکساں اہمیت کا حامل ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آرٹیکل 20 کی رو سےہندو، پارسی،عیسائی سمیت دیگرتمام اقلیتیں خواہ وہ کسی بھی مذہب کی پیروکارہوں، اپنےعقائد اور مذہبی معاملات کے حوالے سے پوری طرح آزاد ہیں۔

اسلام امن وآشتی اورانسانی اقداروحقوق کی حفاظت کرنے والا دین ہے،شریعت اوراسلامی ضابطۂ حیات۔ بات کی جائے سندھ کے دارالحکومت کراچی کی تو یہاں کے قدیم علاقے صدر میں تقسیم ہند سے قبل مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ آباد تھے جن کی عبادت گاہیں بھی وہیں قائم تھیں۔ صدر میں اکبر روڈ رتن تلاو جو آج کل موٹر سائیکل کی خریدوفروخت کا سب سے بڑا مرکز ہے، اس کی گنجان آباد گلیوں سے موٹر سائیکل پر گزریں تو آوازیں آتی ہیں بھائی موٹر سائیکل بیچنی ہے۔ اگر آپکو موٹر سائیکل فروخت نہ بھی کرنی ہو تو اس کی قیمت لگوانے میں ضرور لطف آتا ہے، یہاں سے گزرنے والے بخوبی جانتے ہوں گے کہ ان گلیوں میں ایک 200 سال قدیم مندر بھی قائم ہے جس کا نام شری مری ماتا مندر ہے۔

رتن تلاو کے اس 60 گز کے مکان نما مندرکے سامنے سے گزریں تو محسوس بھی نہ ہوگا کہ یہ مندر ہے لیکن یہ آج بھی آباد ہے۔ اندر داخل ہوتےہی بائیں جانب 200 سال پرانا تعزیہ بھی دکھائی دیتا ہے جس کی دیکھ بھال لکشمی نامی خاتون کرتی ہیں۔ لکشمی بائی کا کہنا ہے کہ پہلےیہ کام میری ساس کرتی تھیں جن کے انتقال کے بعد اب یہ میری ذمہ داری ہے۔ یہاں مذہبی رواداری کی اعلیٰ مثال یوں دیکھی جاسکتی ہےکہ مسلمان تعزئیے پر دور دراز سے دعا کرنے آتے ہیں اور ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے عقیدت مند اپنی منت مانگتے اور مراد پاتے ہیں۔ اس تاریخی مندر کی کمیٹی کے رکن دلیپ کمار کہتے ہیں کہ مندر کی تنو آرائش آخری بار 2014 میں سندھ حکومت نے کروائی جب صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور گیان چند اسرانی تھے۔ مندر پر 21 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ اس سے قبل ہماری کمیونٹی اس کی تزئین و آرائش کیا کرتی تھی۔‎کراچی میں مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد تقریباً 10 لاکھ ہے جس میں زیادہ تعداد ہندوؤں کی ہے تو اقلیتوں کی عبادت گاہوں کی دیکھ بھال کون کرتا ہے؟ ان کی مرمت اور تزئین وآرائش پر اٹھنے والے اخراجات کیسے پورے کیے جاتے ہیں؟ ان سوالات کے جواب کیلئے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور سندھ ہری رام کشوری لال سے رابطہ کیا جن کا کہنا تھا کہ کراچی میں وزارت اقلیتی امور کے پاس ہندوؤں اور سکھوں کی 60، عیسائی برادری کی 33 اورپارسیوں کی ایک عبادت گاہ رجسٹرڈ ہے۔

‎ہری رام کشوری لال کے مطابق ان عبادت گاہوں کا ترقیاتی بجٹ سالانہ ایک ارب روپے سے زائد ہے۔ ہرعبادت گاہ کی اپنی ایک کمیٹی ہے جو روز مرہ کے اخراجات اپنی مدد آپ کے تحت جمع کرتی ہے اور عبادت گا ہوں کی تزئین وآرائش کے لئے یہ کمیٹی (وازرت اقلیتی امور کی جانب سے بنائی گئی 18 افراد پر مشتمل کمیٹی جس کا نام نان مسلم ویلیفئر کمیٹی ہے) اس سے رابطہ کرتی ہے۔ جس کا کام متعلقہ امور کا جائزہ لے کر فنڈزجاری کرنا ہے۔

‎اسی حوالے سے نان مسلم ویلفیئر کمیٹی کے رکن اورصوبائی وزیر ایکسائز ٹیکسیشن مکیش کمارچاؤلہ کا کہنا تھا کہ صوبے میں بسنے والی اقلیتوں میں سب سے زیادہ تعداد ہندو برادری سے تعلق رکھنے والوں کی ہے، اس لیے ہمیں ترقیاتی فنڈ کا سالانہ 65 سے 70 فیصد ملتا ہے جسے عبادت گاہوں کی مرمت اور نئی عبادت گاہوں کی تعمیرپر خرچ کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فنڈ میں وقت کے ساتھ اضافہ ضروری ہے۔

‎ ایم اے جناح روڈ پر واقع قدیم سوامی نارئن مندر میں قائم گردوارے اور مندر کے لئے گذشتہ سال سندھ حکومت کی جانب سے 60 کلوواٹ کا ایک جنریٹر نصب کرایا تھا جس کی مالیت 50 لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے اور وہیں سندھ حکومت کی جانب سے ایک کمیونٹی سینٹر بھی زیر تعمیر ہے جو رواں سال مکمل ہو جائے گا جس میں ہندوؤں اور سکھوں کی مذہبی تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ کراچی میں واقع کسٹم ہاوس کے قریب قدیم جھولے لعل مندر جو تقریبا 200 سال پرانا ہے اس پر بھی 2015 میں تزئین و آرائش کا کام سندھ حکومت نے کروایا۔ ہندو برادری کا کہنا ہے کہ حکومت ہمارے مندروں پر روایتی گبند بنانے کی بھی اجازت دے۔‎نان مسلم ویلفیئر کمیٹی کی18 رکنی کمیٹی کے رکن اور پاکستان سکھ کونسل کے پیٹرن ان چیف سردار رمیش سنگھ خالصہ نے کہا ” ہماری تمام عبادت گاہیں اچھی حالت میں ہیں اور حکومت ترقیاتی فنڈ کا 3 فیصد سکھوں کی عبادت گاہوں پر خرچ کرتی ہے”۔

‎عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے سینیٹرانورلعل ڈین بھی نام مسلم ویلفیئر کمیٹی کے رکن ہیں، اسی سوال پر ان کا کہنا تھا کہ عیسائیوں کی عبادت گاہیں زیادہ تر کراچی میں ہیں جن پر ڈویلمپنٹ فنڈ کا سالانہ 20 سے 25 فیصدخرچ ہوتا ہے اور تمام چرچ اچھی حالت میں ہیں۔ کیونکہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ اقلیتوں کا خیال رکھا اورمؤثر قانون سازی بھی کی۔

‎حکومتی نمائندوں کی باتیں ایک طرف اس حوالے سے صدرمیں واقع قدیم سینٹ پیٹرک کیتھڈرل چرچ کے سربراہ بشپ صادق ڈنیئل نے بتایا کہ ہمیں آج تک حکومت کی جانب سے عبادت گاہوں کے لیے کوئی فنڈ نہیں ملا، سال 2002 میں اس چرچ کی مرمت کرائی گئی تھی جس کےتمام اخراجات عیسائی برادری نے مشترکہ طور پر برداشت کیے تھے جبکہ شہر کی تمام مسیحی عبادت گاہوں کی تزئین و آرائش بھی مسیحی برادری خود کراتی ہےجبکہ کراچی میں واقع آتش کدہ کی انتظامیہ نے آج تک سندھ حکومت سے آتش کدہ کی تزئین وا ٓرائش کی لئے کوئی درخواست نہیں کی۔

‎ تاہم وزیر برائے اقلیتی امور ہری رام کشوری لال نے عبادت گاہوں کو فنڈ نہ ملنے کے بیان کو حقائق کے برخلاف قرار دیتے ہوئے کہا کہ کمیٹی میں عیسائی برادری سے تعلق رکھنے والے اراکین موجود ہیں اگر ایسی کوئی بات ہوتی یقیناً کمیٹی اس بارے میں آگاہ ہوتی۔ ہمارا فرض ہے کہ تمام مذاہب کے لوگوں کو تحفظ دیں اور ان کی عبادت گاہوں کے ساتھ ساتھ اقلیتی برادری کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

سندھ حکومت کو چاہیے کہ اقلیتی برادری کے مسائل اور ان کے تحفظات کو دور کرے تاکہ بین الا مذاہب و ہم آہنگی پر مشتمل ایک مثالی معاشرہ پروان چڑھے جس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ اقلیتوں کو بھی حقوق ملیں۔

Comments are closed.

Scroll To Top