عامر لیاقت کا انکشافات سے بھرپور لکھا گیا آخری کالم

اپنے دل کا حال آپ سب کے نام

میں نے پاکستان کو رمضان المبارک کی ۲۳ نشریاتوں میں قرآن کی تفاسیر، نعتوں کے گلدستے، عشق مصطفی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں ، احادیث کریمہ ، ۱۲۱ خاندانوں کی چپ چاپ داد رسی، متعدد بچوں کے دل میں سوراخ کا طبی علاج ، ۲۷ رمضان المبارک کو جشن آزادی منانے کی ترغیب ادررقت آمیز دعاؤں کی سعادت دینے کے ساتھ ساتھ بچوں کی عصمت دری کے ہر اندوہناک واقعے اور خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے ہر عمل کی مذمت میں سب سے آگے رہا، سیاست میں آیا تو اسمبلی میں ہمیشہ ناموس رسالت اور ختم نبوت کا مقدمہ لڑایہاں تک کہ وزارت اور رکنیت سے استعفی دے دیا، اہل بیت سے شدید عقیدت پر امام ادریس شافعی رحمہ اللہ کی طرح شیعہ سمجھا گیا اور نبی آخرالزماں کے صحابہ سے محبت پر سنی ، شیعہ دونوں کہا گیا ، یہ مذاق بنائے گئے کہ یہ محرم میں شیعہ ہوجاتا ہے، ربیع لاول میں سنی یہ ڈرامے باز ہے !

درست! مگر یہ کیسا ڈرامے باز ہے کہ اس کو تو ان ہستیوں پر ڈرامے ہی کرنے چاہئں کم بخت کے پاس اتنی معلومات اور تاریخ و احادیث پر یہ کیسا عبور ہے کہ علما بھی داد دیے بنا نہیں رہتے، کعبۃ اللہ میں جانا تو بڑی بات نہیں کیونکہ جس نے حطیم میں نماز پڑھ لی اس نے کعبے میں نماز ادا کرلی مگر مقدس نجی ملکیت جو کہ ماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کی ہے اس میں ۴۵ منٹ تک اندر کی حاضری اور پھر صرف اکیلے کھڑے رہنے کی ۵ منٹ تک اجازت ان کے شوہر عظیم یعنی مصطفی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی اجازت کے بناکیسے ممکن ہے؟ مجھ سے بے انتہا غلطیاں بھی ہوئیں لیکن میں نے ہمیشہ اپنی لغزشوں پر کھلے دل سے سرعام معافی مانگی ، شیخین کریمین رضی اللہ عنہم کے معاملے پر کھلی توبہ کی ،تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے میری توبہ پر فتوی جاری کیااور اب وہ بلاشبہ توبۃ النصوح بن چکی ہے کیونکہ اس کے بعد ان کا ذکر مسلسل زباں پہ جاری ہوا اور اس کے بعد اب بھی مجھے جو عار دلاتا ہے وہ حدیث مصطفی کی رو سے گناہ گار قطعی ہے ، اس کے علاوہ مجھ سے کوتاہیاں ہوتی رہیں اور ہوتی رہیں گی کیونکہ بشر کامل نہیں، لیکن وہ بلا سبب بھی نہیں بلکہ ایک چولے کی ضرورت ہے اور اسے صرف روحانی سفر کے مسافر سمجھ سکتے ہیں کہ یہ چولاکب اترے گا، میں نے اپنی ہزارہا تقاریر میں اور معراج النبی کی ٹرانسمیشنز میں کہ جس کا آغاز ہی میں نے کیا ، نماز کی مسلسل تلقین کی اور اا افراد کو تو میں ذاتی طور پر جانتا ہوں جو نمازی معراج کی ٹرانسمیشنز کے بعد ایسے بنے کہ مجھے ہر نماز میں دعا دیتے ہیں ، میں نے ٹی وی پر جس فارمیٹ کا آغاز کیا اس کی لازماً نقل کی گئی اور بعض دفعہ تو ایسا ہوا کہ لوگوں نے باقاعدہ انٹرویوز میں میرے ہی شوز کو اپنی تخلیق ثابت کردیا مثال کے طور پر “عالم آن لائن” کی پروڈیوسر میری اہلیہ ازخود بن گئیں جس پر عدنان اعوان، عبدالوہاب شیخ ، کرم اللہ ، حمود منور اور یقینی پروڈیوسر سید علی امام کو تو زمین میں گڑ جانا چاہئیے تھا مگر ایک “نمازی اور پرہیزگار “کے اس دعوے پر ہم نے خاموشی اختیارکی

سیاست میں جناب الطاف حسین میری مقبولیت سے ہمیشہ خائف رہے اور مجھے جانشین سمجھتے رہے حالانکہ مجھے ہر قوم کے فرد کی طرح اپنی قوم سے پیار تھااور پیار ہے میں سندھ،پنجاب، خیبرپختونخواہ، بلوچستان اور مہاجر دریاؤں کی طرح وہ دریا ہوں جس کا سمندر پاکستان ہے اور وہ بخوشی اس میں گر کر کے امر ہوجاتا ہے ، میری پہلی پہچان نعت خواں ، دوسری پہچان پاکستان او ر تیسری پہچان اولادِ مہاجر ہے اور مجھے اپنی ہر پہچان پر فخر ہے ، پاکستان کے بنا جینا محال ہے اور مہاجروں کے لیے آواز بلند کرنا میرے لہو کا تقاضا ہے مگر آواز میں پاکستان زندہ باد کے سوا کچھ نہ ہو، اس پر کوئی معترض ہے تو بحث بیکار ہے ، عمران خان صاحب مجھ سے بے پناہ پیار کرتے ہیں مگر ارد گرد ایک ہجوم نے مجھے قریب آنے سے روکے رکھا ہے لہذا مجھے پیار چاہئیے قربت تو جب چاہے اللہ کی رضا سے حاصل کرسکتا ہوں مگر ابھی نہیں ، اللہ انہیں سلامت رکھے (آمین)

میں نے ۱۷ سالہ کٹھن حالات اور اپنے والدین کی مسلسل بے عزتی اور پانچ حج کرانے، ۱۵ عمروں کی ادائیگی کروانے اور جگہ جگہ ساتھ رکھ کر نام دلوانے یہاں تک کہ پی ایچ ڈی کے لیے مسترد نام پر لڑائی لڑ کے داخلہ دلوانے اورلاتعداد ایسے ایثار وں کے باوجود جن کا ذکر مناسب نہیں دوسری شادی کی تو میرے ہی وطن کے حاسدین نے حسد کی آگ میں جل کررسالت ماب کی سنت کاملہ کہ کم عمرسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شادی کو بھلا کر وہ کچھ کہا کہ میرے آقا بھی مجھے نگاہ مظلومیت سے دیکھتے ہوں گے کہ اس نعت خواں امتی نے زنا نہیں نکاح کیا لیکن اس کے ساتھ زانیوں جیسا سلوک ہورہا ہے، یہ غریب و مسکین کی چھپ کر مدد کرتا ہے، یتیموں سے ملنے جاتا ہے، ماؤں کا خیال رکھتا ہے، بیواؤں کو راشن دیتا ہے مگر اظہار نہیں کرتا اور پورے جسم کی اچھائیوں کو چھوڑ کر ایک قرار دیے گئے زخم پران سے لعنتیں اور طعن سنتا ہے جو انسان نہیں بہترین فرشتے ہیں اور انہیں ستاراالعیوب اللہ رب العزت نے لوگوں کو گالیاں دینے کی خصوصی سند جاری کی ہے، اسی لیے میں اکثر (کورونا سے قبل) آقا کے پاس چلا جاتا تھا اب پھر جارہاہوں ان شا اللہ۔

اس تمہید کا مقصد اپنا بوجھ ہلکا کرنا نہیں بلکہ سوال یہ کرنا ہے کہ ایک بدذات لڑکی ہر ابھرتے دن سول عدالت میں زوجیت کا دعوی کرنے بجائے سڑکوں پر اور بعض طاقت وروں کی سرپرستی میں صرف بدنام کرنے کے لیے کہ جس کے پاس بقول اس کے پیسے تک نہیں ہوتے کراچی آجاتی ہے یا اسلام آباد کی اسڑیٹس پر بیوی ہونے کا دعوی کر کے نکاح مسنونہ کا مذاق اڑاتی ہے، کہتی ہے کہ جب میں چاہوں گی قیامت آئے گی، عورت کی سب سے بڑی عزت اس کا حمل ہوتا ہے یہ اسے بھی دو بار گرانے کا دعوی کرتی ہے ، کراچی میں ایک برس رہنے کی باتیں کرتی ہے لیکن راستے نہیں جانتی یہ بھی نہیں جانتی کہ تصوراتی شوہر نے کہاں رکھا تھا، وائس میسیجز کیسے بنتے ہیں آواز کی فریکوئنسی کس طرح ملائی جاتی ہے یہ کسی بھی ریکارڈسٹ سے جاکر پوچھا جاسکتا ہے جبکہ جسے میدان میں لایا گیا ہو اسے مناسب معلومات فراہم کر کے اسکرین شاٹس بنانا کیا مشکل؟ اس کا آخری دعوی پھنسا دینے کے لیے کافی تھا کہ “میں نے اسے کراچی کال کر کے بلایا” سب کچھ کہہ دیا گندی اور غلیظ گالیاں دے ڈالیں مگر یہ والی کال نہ سنوا سکی ، بلوچ کالونی تھانے پر رشوت کا الزام لگایا ، جج کے سامنے میں بھی پیش ہوگیا حالانکہ جج صاحب کو نظر نہیں آیا، ایسے ہزاروں دعوے اس نے کیے لیکن جب سنیوں کو کافر اور اہل تشیع کے آئمہ اور بی بی زینب سلام اللہ علیہا کا معاذ اللہ مذاق اڑایا تو وہ تمام علمائے کرام گھوڑے بیچ کر سورہے ہیں جو عامر لیاقت پر کفر کافتوی لگانے سے کبھی نہیں چوکتےاور دلیل سے خالی رہتے ہیں، تحدیث نعمت کے لیے کہتا ہوں کہ ہاں مجھے فخر ہے کہ میں محرم الحرام میں ذکر امام عالی مقام سے اپنی عاقبت سنوارتا ہوں ،فاروق اعظم کو راضی رکھتا ہوں ، سیدنا عثمان کی مظلومانہ شہادت پر ان کی نظر عنایت سمیٹتا ہوں،شہادت مولا علی پر بڑھ چڑھ کر ایسا ذکر کرتا ہوں کہ مومن اور منافق میں فرق واضح ہوجائے ، بی بی زینب کی جوتی ہوں کیونکہ وہ ننگ پا کوفے کی گلیوں میں قیدی بنائی گئیں، رسول اللہ کا کتا ہوں جو صرف ربیع الاول نہیں تا حیات ان کا وفادار رہے گا ان شا اللہ، اور الزام لگانے والے ۱۴ اگست بھول گئے، ہاں اگست میں پاکستانی ہوجاتاہوں کیونکہ پیدائش سے پاکستانی ہوں اور ۶ ستمبر کا فوجی یاد نہیں رہا! ہاں ستمبر میں فوجی بن جاتا ہوں کیونکہ میں اپنی پرسکون نیندوں پر ان کاشکر گذار ہوں،حج پر حاجی ہوجاتا ہوں کیونکہ حج بھی کرتا ہوں۔

آج مجھے اُن سب سے اور اس بدترین الزام پر مجھے جانتے ہوئے خاموش رہنے والوں سے شکایت ہے کہ میری ایف آئی آر، سائبر کرائم میں درخواست اور متعلقہ اداروں کو اطلاع کے باوجود اس لڑکی کااور میرا میڈیکل نہیں کرایا جارہا لہذا میں پاکستان کے چیف جسٹس جناب جسٹس گلزاراحمد سے اپیل کرتا ہوں کہ اس لڑکی کو عدالت میں بلوا کر اس کی تمام ویڈیوز (اکیلےمیں) سماعت و نظر فرمائیں کیونکہ عورت کی عزت کا پاس ضروری ہے چاہے وہ خود اپنے آپ کو بے عزت ہی کیوں نہ کررہی ہو اور پھر چونکہ دعوی اس کا ہے ثبوت طلب کریں، میرا ڈی این اے کرائیں اور اس کے بقول ریپ ہوا اور بچے گرائے گئے میڈیکل کرائیں، اس نے نکاح کے بعد سٹی کورٹ جاکر رجسٹریشن کا دعوی کیا ہے کورٹ سے ریکارڈ طلب کیا جائے اور ان تمام سرپرستوں کو عدالت بلایا جائے جنہوں نے اس کی کھل کر سپورٹ کی اسے پیسے دیے گئے کہ یہ کراچی آئے جائے اور ان میں سے بیشتر وہ افراد ہیں جو یا تو میڈیا میں نووارد ہیں یا سنسنی خیزی پر یقین رکھتے ہوئے یوٹیوب چینل چلاتے ہیں اور کسی انجان لڑکی کو “تیسری بیوی” لکھتے ہیں جو مبینہ کے بنا قانوناً جرم ہے یہ شخصیات پر تہمت لگاتے ہیں جیسا کہ جناب جسٹس فائز عیسی اور جناب جسٹس عمر عطا بندیال صاحبان پر بھی الزامات عائد کیے گئے اگر میرا نکاح ثابت ہوجائے تو میں اسے چھپانے پر نبی کریم صلی املہ علیہ وآلہ وسلم کی مثالیں دے کر توہین رسالت کا مجرم قرار دیا جاؤں اور مجھے اپیل کے حق سے محروم کر کے پھانسی چڑھا دی جائے کیونکہ اب سب کچھ ناقابل برداشت ہوچکاہے ، قومی اسمبلی کے رکن کی سنی نہیں جارہی اب صرف پاکستان میں یہ آخری راستہ بچا ہے وطن کا ہر فرد ایک دوسرے پر الزام اور لعنتیں بھیج بھیج کر اتنا عادی ہوگیا ہے کہ ہم پر سے عطائے ربی اٹھ چکی ہے اور بے حسی نے اپنے اپنے شکار منتخب کر رکھے ہیں اس لیے انہیں “سنی سنائی بات کو آگے بڑھانے والی حدیث مبارکہ سے اب کوئی غرض نہیں رہی۔

میں آخری بارتمام اداروں اور انتظامیہ سے ملتمس ہوں کہ وہ فوری طور پر مدعی سے تحقیقات کرے ورنہ میری اس اپیل کو میری آئینی درخواست سمجھا جائے ،یہ طوفان بدتمیزی نہ رکا تو میں نہ صرف قومی اسمبلی میں آواز اٹھاؤں گا بلکہ خود سپریم کورٹ اس اپیل کو لے کر جاؤں گا، سچ کووکیل کی ضرورت ہوتی ہے نا گواہ کی!!

والسلام عامر لیاقت حسین

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More