ٹی ٹی پی سے مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی،امیرخان متقی

اسلام آباد: افغان عبوری وزیر خارجہ نے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین سیزفائر معاہدے کو خوش آئند قرار دے دیا۔ امیر خان متقی نے پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین مذاکرات کے لیے سہولت کاری کی بھی تصدیق کردی تاہم امیر متقی کا افغان عبوری وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کی مذاکرات میں کردار کے سوال پر تبصرے سے گریز کیا۔ کہتے ہیں امید ہے آنے والے دنوں میں مذاکرات مزید آگے بڑھیں گے،توقع کرتے ہیں عارضی جنگ بندی مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو۔

اسلام آباد کے انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسڈیز میں تقریب سے گفتگو کرتے ہوئے افغان عبوری وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم انسانی بنیادوں پر پاکستان کی طرف سے تعاون کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔اس وقت افغان سرزمین میں پاکستان مخالف عناصر موجود نہیں،افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔

افغان عبوری وزیر خارجہ نے کہا کہ ہمیں سمجھ نہیں آ رہی کہ ہم کون سا ایسا عمل کریں جس سے امریکہ سمیت دیگر ممالک ہمیں تسلیم کریں، انہوں نے کہا کہ افغانستان کو بڑی فوج کی ضرورت نہیں،ہم مختصر اور باصلاحیت فوج تشکیل دیں گے،ہماری حکومت وسیع البنیاد ہے،ہماری حکومت میں تمام قومیتیں شامل ہیں۔

افغان عبوری وزیر خارجہ نے کہا کہ صحت کی وزارت و اداروں میں سو فیصد خواتین واپس آچکی ہیں،تعلیمی اداروں میں پچھتر فیصد خواتین واپس ڈیوٹی پر آچکی ہیں،افغان عبوری وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے آج ملاقات ہوگی۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More