تازہ ترین
لوک فنکار الن فقیر کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس برس بیت گئے

لوک فنکار الن فقیر کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس برس بیت گئے

ویب ڈیسک: (4 جولائی 2020) لوک فنکار الن فقیر کو دنیا سے رخصت ہوئے بیس برس بیت گئے۔ ریڈیو ٹی وی پر یکساں مقبول الن فقیر کی آواز میں صوفیانہ کلام ہو یا علاقائی گیت ہر ایک لاجواب۔

الن فقیر کے نام سے شہرت پانے والے فوک گلوکار کا اصل نام علی بخش تھا۔ 1932 میں جامشورو سندھ میں پیدا ہوئے۔ فنی دنیا میں متعارف کرایا دانشور ممتاز مرزا نے۔ الن فقیر کا علی شہکی کی ساتھ گایا گیت شہرت کی بلندیوں پر پہنچا۔ الن فقیر سندھی، اردو، سرائیکی، پنجابی زبانوں میں گیت گائے جوآج بھی مداحوں کے لبوں پر زد عام ہیں۔

الن فقیر صوفیانہ کلام میں اپنے منفرد اور مخصوص انداز میں پیش کرنے فقیرانہ مزاج کے مالک یہ سریلا گلوکار کوٹری، دادو اور لاڑکانہ کے درمیان چلنے والی ٹرین میں اپنا کلام سنا کر زندگی کی گاڑی کھینچتا تھا۔

پی ٹی وی کے پروڈیوسر کی جوہرشناس نگاہوں نے انہیں ٹی وی پر گلوکاری کا موقع دیا تو پھر انہوں نے پلٹ کر پیچھے نہیں دیکھا۔ سندھی زبان میں پیش کیا جانے والا کلام اور ان کا انداز تو خاصا مشہور ہوا۔ شاہ لطیف کے کلام کو جب جب پیش کیا تو سننے والوں پر وجد طاری کردیتے ۔

اردو اور سندھی زبان میں نغمہ سرائی کی اور صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔ ملنگ قسم کا یہ فنکار چار جولائی دو ہزار کو زندگی سے ایسا روٹھا کہ موت کی آغوش میں جا سویا۔

Comments are closed.

Scroll To Top