علی امین گنڈا پور کیس کا فیصلہ سات فروری تک محفوظ

اسلام آباد:الیکشن کمیشن نے وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کا فیصلہ سات فروری تک محفوظ کرلیا۔

چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کی سماعت ہوئی۔ وفاقی وزیر کے وکیل اشرف گجر نے کہا کہ انکوائری باضابطہ نہیں کی گئی، شکایت بھی موجود نہیں ہے، اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کے کلائنٹ نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کی۔

علی امین کے وکیل نے مؤقف اپنایا کہ سیاسی کارکن خوشی غمی میں جاتے ہیں،مولانا فضل الرحمان آئے روز ریلیاں نکال رہے ہیں وہ کیوں نظر نہیں آتی،تمام جماعتوں کیلئے یکساں آرڈر کریں تو عملدرآمد کی یقین دہانی کراتے ہیں، اس پر چیف الیکشن کمشنر کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکن سے وفاقی وزیر بننے تک آپ کی ذمہ داری بڑھتی ہے، ضابطہ اخلاق تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے بنتا ہے،جہاں بھی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہو ایکشن لیا جاتا ہے یہ کوئی جواز نہیں کہ باقی خلاف ورزی کر رہے ہیں تو میں بھی کروں۔

علی امین گنڈا پور کی جانب سے دئے گئے بیان میں انہوں نے کہا کہ لکھ کر دیتا ہوں کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی نہیں کروں گا، مجھے ضلع بدر نہ کیا جائے۔ بعد ازاں الیکشن کمیشن نے علی امین گنڈا پور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کیس کا فیصلہ محفوظ کرلیا جو سات فروری کو سنایا جائے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More