نامور اردو شاعر احمد فراز کا 91 واں یوم پیدائش

منفرد لب و لہجہ کے نامور اردو شاعر احمد فراز کا آج اکانواں یوم پیدائش ہے۔ اردو شاعری میں محبت اور مزاحمت سے لبریز تجربات نے احمد فراز کو جلد ہی شہرت کی بلندیوں پر پہنچادیا۔ ان کی غزلوں اور نظموں کا مجموعہ آج بھی شائقین ادب کیلئے بیش بہا خزانہ سے کم نہیں۔

بارہ جنوری انیس سو اکتیس کو کوہاٹ میں جنم لینے والے سید احمد شاہ اردو شاعری میں احمد فراز کے نام سے سرفراز ہوئے۔ ان کی شاعری کا محور محبت اور مزاحمت کے نت نئے استعاروں سے عبارت رہا۔ ان کی شاعری کے دوسرے مجموعہ کلام درد آشوب کو پاکستان رائٹرز گلڈ کی جانب سے آدمجی ایوارڈ کا حقدار ٹھہرایا گیا۔

اُن کے اشعار نہ صرف دلوں کی دھڑکن بن کر دھڑکے۔ مزاحمتی لب و لہجہ میں گندھی ان کی نظمیں خواب بن کر چمکیں اور محبت کے استعاروں سے لبریزغزلیں واردات قلب کا بیانیہ ٹھہریں۔

احمد فراز پہلے ریڈیو پاکستان پشاور سے وابستہ ہوئے پھر اسلامیہ کالج پشاور میں لیکچرر ہوگئے۔ احمد فراز کو اپنی مزاحمتی شاعری کی وجہ سے ضیا آمریت میں جیل سمیت چھ سال کی خود ساختہ جلاوطنی بھی جھیلنا پڑی۔ احمد فراز بعد میں پاکستان انٹرنیشنل سینٹر، اردو اکادمی ادبیات اور نیشنل بک فاؤنڈیشن کی سربراہی سمیت کئی بڑے عہدوں پر بھی فائز رہے۔

فراز کی شاعری کا کئی عالمی زبانوں میں ترجمی بھی کیا گیا۔ ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں کئی ملکی اور غیر ملکی اعزازات سے بھی نوازا گیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More