اداکار آغا طالش کی آج 24ویں برسی منائی جارہی ہے

اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے اداکار آغا طالش کی چوبیسویں برسی آج منائی جارہی ہے،انہوں نے جاندار اداکاری سے مداحوں کے دل موہ لیے۔اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والے آغاطالش ہمیشہ مداحوں کے دلوں میں زندہ رہیں گے

فلمی دنیا میں آغا طالش کے نام سے شہرت پانے والے آغا علی عباس قزلباش بھارتی شہر لدھیانہ میں پیداہوئے اور قیام پاکستان کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کر لی۔لاہور آمد کے بعد انہوں نے فلمی کریئر کا باقاعدہ آغاز کر دیا اور اپنی پہلی فلم نتھ میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

پاکستان میں آغا طالش نے بڑے پردے پر مختلف کردار نبھائے اور شائقین کی توجہ حاصل کی۔ ان کی مشہور فلموں میں نتھ، جھیل کنارے، سات لاکھ، باغی، شہید، سہیلی، فرنگی، زرقا، وطن، نیند، زینت، امرائو جانِ ادا سرفہرست ہیں جو اپنے وقت کی کام یاب فلمیں تھیں۔ انھوں نے اردو زبان میں بننے والی فلموں کے علاوہ پنجابی اور پشتو فلموں میں بھی کام کیا۔

اپنے فنی کریئر کے دوران آغا طالش نے زیادہ تر ولن کا کردار نبھایا اور جو کردارا ادا کیا اسے امر کر دیا۔ وہ خود کو ہر کردار میں کچھ اس طرح سے ڈھالتے کہ حقیقت کا گمان ہوتا۔ چالیس سالہ فلمی کریئر میں آغا طالش نے چار سو سے زائد فلموں میں اپنے فن اداکاری کے جوہر دکھائے۔

وہ کبھی نواب کے بہروپ میں اسکرین پر نظر آئے تو کہیں‌ ایمان دار اور فرض شناس پولیس افسر، کسی فلم میں‌ انھوں نے ڈاکو کا روپ دھارا تو کہیں‌ ایک مجبور باپ کے رول میں شائقین کے دل جیتے۔ آغا طالش ان فن کاروں‌ میں شامل ہیں جنھیں‌ اداکاری کا جنون تھا اور انھیں‌ جب موقع ملا تو ہر کردار اس خوبی سے نبھایا کہ دیکھنے والے داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ انھوں‌ نے کئی فلموں‌ میں‌ منفی کردار بھی ادا کیے۔

انھوں نے اپنی شان دار اداکاری کی بدولت پاکستان فلم نگری کا سب سے معتبر نگار ایوارڈ 7 مرتبہ اپنے نام کیا تھا۔ قیامِ پاکستان کے بعدد طالش نے ریڈیو پشاور سینٹر سے عملی زندگی میں‌ قدم رکھا اور پھر فلم کی طرف آگئے تھے۔ انیس فروری انیس 1998 کو آغا طالش اس جہان جانی سے کوچ کر گئے مگر ان کے کردار اور انداز اداکاری مداحوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More