تازہ ترین
جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت

جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت

کوئٹہ:(26 جولائی 2020) ہراسگی اسکینڈل میں جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت ہونے پر سابق وی سی یونیورسٹی کے خلاف جوڈیشل کارروائی کا سفارش کردی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹرشفیق الرحمن کی زیرصدارت جامعہ بلوچستان کا اٹھاسی واں سینڈیکٹ اجلاس ہوا،اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

رپورٹ کی روشنی میں جامعہ بلوچستان میں خفیہ کیمروں سے ویڈیوز بنانے کا الزام ثابت ہوا،جس پر انتظامیہ نے دو ملازمین کو برطرف جبکہ دو کی انکریمنٹ روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ سابق وی سی یونیورسٹی ڈاکٹر جاوید اقبال کے خلاف گورنر بلوچستان سے جوڈیشل کارروائی کا سفارش کی گئی جبکہ سابق وائس چانسلر سے ایوارڈز اور ٹائٹلز واپس لینے کی بھی سفارش کی گئی ہے،

اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ مبینہ طور پر دو خفیہ کیمروں سے جامعہ بلوچستان میں خفیہ اور نازیبا ویڈیوز بنائی گئیں،ہراسگی کیس اس وقت بلوچستان ہائی کورٹ میں زیرسماعت ہے۔

یاد رہے کہ گذشتہ سال صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں صوبے کی سب سے بڑی یونیورسٹی میں طالبات کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کا ایک بڑا اسکینڈل بے نقاب ہوا ہے۔

طالبات کو ہراساں کرنے کے خلاف درخواست کی گزشتہ سماعتوں کے دوران یہ بات سامنے آئی تھی کہ برطرف کیے جانے والے سکیورٹی گارڈ نے قواعد و ضوابط کے برعکس یونیورسٹی میں سیکورٹی کے مقاصد کے لیے لگے سی سی ٹی وی کیمروں کے ڈیٹا کو طالبات کو ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا تھا۔

واقعے کے بعد طالبات کو ہراساں کرنے کے حوالے سے یونیورسٹی کے جن دیگر ملازمین کے خلاف تحقیقات کی گئیں ان میں یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر جاوید اقبال، سابق رجسٹرار طارق جوگیزئی ،سابق چیف سکیورٹی آفیسر محمد نعیم اور سابق ٹرانسپورٹ آفیسر محمد شریف شامل تھے۔

Comments are closed.

Scroll To Top