مراسلے کی تحقیقات کیلئےجوڈیشل کمیشن چاہیے، فواد چوہدری

اسلام آباد: تحریک انصاف کے رہنما فوادچوہدری کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی کمیٹی نے آج گزشتہ کمیٹی کے منٹس اور پریس ریلیز کی توثیق کی یہ خوش آئند ہے ۔ہمارے ادارے اور مسلح افواج اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ یہ ہمارے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت ہے

اب تک نیوز کے پروگرام ٹونائٹ ود فریحہ میں گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ مراسلے کے حوالے سے کچھ سوالات ہیں جن کے جواب آنے چاہییں۔کیا یہ حقیقت نہیں کہ مذکورہ دستاویزپاکستان کے ایک دوسرے ملک میں متعین نمائندے کے پیغام پر مشتمل ہے؟۔کیا پیغام میں ایک آفیشل میٹنگ کی تفصیلات موجود ہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ کیا یہ حقیقت نہیں اس میں عدم اعتماد کا ذکرہے۔کیاپاکستان کی معافی کو عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی ناکامی یا کامیابی سے جوڑا گیا ہے؟۔کیا این ایس سی نے مراسلے کو ہمارے اندرونی معاملات میں سنگین مداخلت قرار دیا ہے؟۔

فوادچوہدری نے کہا کہ جو دھمکی دی گئی اس میں اور جو اندرونی کردار ہیں ان کے گٹھ جوڑ کا اندازہ لگانا ضروری ہے۔یہ پتہ لگانا ضروری ہے ہمارے آٹھ لوگوں سے ڈپلومیٹس نے ملاقات کی جس کے بعد وہ تحریک انصاف چھوڑ گئے ان ملاقاتوں میں کیا باتیں ہوئیں؟۔ہمیں ایک آزاد جوڈیشل کمیشن چاہیے جو تحقیقات کرے۔

سابق وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کس ایجنسی نے تحقیقات کیں ہیں جو اس نتیجے پر پہنچی کہ سازش نہیں ہوئی مداخلت ہوئی ہے۔ہم نے اپنے دور میں تمام کمیشنز کی رپورٹس شائع کی ہیں یہ کمیشن بنتا ہے تو اس کی رپورٹ بھی سامنے آجائے گی۔عدم اعتماد اوراراکین کی ملاقاتوں کے لنک کو دیکھنے کے لیے تحقیقات ضروری ہیں۔

فوادچوہدری موجودہ حکومت خود اپنے بوجھ تلے دب رہی ہے۔معیشت کے فیصلے نہیں کرپارہے ملک چلا نہیں پارہے۔پاکستان میں صورتحال بڑی سنگین ہے۔انہوں نے الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کا غیر جانبدار ہونا ضروری ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More