تازہ ترین
لوک گلوکار عالم لوہار کو مداحوں سے بچھڑے 41 برس بیت گئے

لوک گلوکار عالم لوہار کو مداحوں سے بچھڑے 41 برس بیت گئے

کراچی:(03 جولائی 2020) معروف فوک گلوکارعالم لوہار کو مداحوں سے بچھڑے اکتالیس برس بیت گئے ۔

لوک گلوکار عالم لوہار یکم مارچ 1928ء کو گجرات کے ایک نواحی گاؤں آچھ گوچھ میں پیدا ہوئے، انہوں نے کم عمری سے ہی گلوکاری کا آغاز کردیا تھا۔عالم لوہار کو چمٹا بجانے اور آواز کا جادو جگانے میں کمال کا فن حاصل تھا، ان کے گائے ہوئے پنجابی گیت آج بھی سماعتوں پر وجد طاری کردینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وہ اپنے مخصوص انداز اور آواز کی بدولت بہت جلد عوام میں مقبول ہوگئے۔

عالم لوہار کا’’چمٹا‘‘ بھی ان کی ایک الگ پہچان بنا، وہ گانے کے دوران لے کو برقرار رکھنے کے لیے چمٹا استعمال کرتے تھے۔ان کی گائی ہوئی جُگنی آج بھی لوک موسیقی کا حصہ ہے۔ان کی گائی ہوئی جُگنی اس قدر مشہور ہوئی کہ ان کے بعد آنے والے متعدد فنکاروں نے اسے اپنے اپنے انداز سے پیش کیا لیکن جو کمال عالم لوہار نے اپنی آواز کی بدولت پیدا کیا وہ کسی دوسرے سے ممکن نہ ہوسکا۔جُگنی کے علاوہ عالم لوہار نے کئی اور منفرد نغمے تخلیق کئے جن میں اے دھرتی پنج دریاں دی، دل والا دکھڑا نئیں، جس دن میرا ویاہ ہو وے گا، قصّہ سوہنی ماہیوال کا گیت، وغیرہ بہت مقبول ہوئے۔

عالم لوہار کی گائیکی کا انداز منفرد اور اچھوتا تھا جو اندرونِ ملک ہی نہیں بیرونِ ملک جہاں پنجابی اور اردو زبان نہیں سمجھی جاتیں وہاں بھی لوگ ان کی خوبصورت دُھنوں پر جھوم اٹھتے تھے، خصوصاً قصّہ ہیر رانجھا اور قصّہ سیف الملوک آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔پاکستان کے سابق صدر جنرل ایوب خان بھی عالم لوہار کے پرستاروں میں شامل تھے۔ انہوں نے عالم لوہار کو’’شیر پنجاب‘‘ کا خطاب بھی دیا۔حکومت پاکستان نے ان کی فنی خدمات پر پرائیڈ آف پرفارمنس بھی دیا لیکن انہیں یہ اعزاز ان کی وفات کے بعد دیا گیا۔

عالم لوہارتین جولائی 1979ء کو پنجاب کے ایک غیر معروف قصبے مانگا منڈی کے پاس ٹریفک حادثے میں انتقال کر گئے جس کے بعد انہیں لالہ موسیٰ میں سپردِ خاک کیا گیا۔

Comments are closed.

Scroll To Top