آئی ایم ایف کی شرائط پر 350 ارب کی ٹیکس چھوٹ ختم

اسلام آباد: حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پر 350 ارب سے زائد کی ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے منی بجٹ تیار کر لیا۔ وزارت خزانہ کل وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں نئی ٹیکس تجاویز پر بریفنگ دے گی ۔ کابینہ کی منظوری کے بعد منی بجٹ منظوری کیلئے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا جائے گا۔

وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا ایک نکاتی خصوصی اجلاس کل ہو گا آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کی بحالی کیلئے ہر طرح کی ٹیکس رعایات اور مراعات کو ختم کرنے کی شرط عائد کی تھی۔ آئی ایم ایف نے تمام اشیاء پر سیلز ٹیکس کو 17 فیصد کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ آئی ایم ایف نے رواں مالی سال ٹیکس وصولی ہدف 5829 ارب روپے سے بڑھا کر 6 ہزار 100 ارب کرنے کی تجویز دی ہے۔

ذرائع کے مطابق حکومت نئے ٹیکس اقدامات کا نفاذ جنوری کے پہلے ہفتے سے کرے گی ۔پیشگی شرائط کے اطلاق پر آئی ایم ایف کا بورڈ 12 جنوری کو پاکستان کیلئے ایک ارب ڈالر قرض کی منظوری دے گا ۔ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کیلئے ترمیمی فنانس بل میں شیڈول 6 مکمل ختم یا ترامیم ہونگی چھٹے شیڈول کے خاتمے یا ترامیم سے 350 ارب روپے کی ٹیکس مراعات ختم ہو جائیں گی۔

موبائل فون، اسٹیشنری اور پیک فوڈ آئٹمز پر ٹیکس چھوٹ ختم کئے جانے کا امکان ہے۔ میک اپ کا سامان بھی منی بجٹ کے بعد مہنگا ہونے کا امکان ہے۔ زیرو ریٹڈ سیکٹر سے بھی سیلز ٹیکس چھوٹ مکمل ختم کئے جانے کا امکان ہے۔کھانے پینے کی اشیاء اورادویات پر ٹیکس چھوٹ برقرار رہے گی جبکہ پرتعیش اشیاء کی درآمدات پر ڈیوٹی کو مزید بڑھایا جائے گا۔ مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیوں کی درآمد پر اضافی ٹیکس عائد کرنے کی سفارش ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں 200 ارب کی کٹوتی کا امکان ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More