بھارت میں خودکشیوں میں ریکارڈ اضافہ

نئی دہلی: بھارتی نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کی رپورٹ کے مطابق 2019 کے مقابلے میں 2020 میں ریکارڈ سطح پر خودکشیوں سے اموات میں 10فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 1967 کے بعد پہلی بار خودکشی سے اموات کا اتنا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سروے کی ٹیم کا کہنا ہے کہ خودکشی کر کے اپنی جان لینے والوں میں طلبہ، مزدوروں اور بے روز گار افراد کی یومیہ تعداد میں پہلے کے مقابلے کافی اضافہ ہوا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ کورونا کی وجہ سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال بھی ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق 2020 میں طلبہ کی خودکشی سے ہونے والی اموات میں 21 فیصد سے بھی زیادہ کا اضافہ ہوا، جبکہ بے روزگار ملازمین میں ساڑھے 16 فیصد جبکہ مزدروں میں یومیہ ساڑھے 15 فیصد سے بھی زائد کا اضافہ درج کیا گيا۔ 2020 میں کاشتکاری سے وابستہ 10 ہزار 677 افراد نے اپنی جانیں لے لیں، جبکہ گزشتہ برس یہ تعداد دس ہزار 281 تھی۔

بھارت میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس مجموعی طور پر 1 لاکھ 53 ہزار 52 لوگوں نے خود کشی کر کے اپنی جان لی۔ یعنی ہر روز تقریبا 400 افراد نے خودکشی کی، 1967 کے بعد پہلی بار بھارت میں ایک برس کے دوران اتنی بڑی تعداد میں خودکشیاں ہو ئی ہیں۔

خودکشی کے لحاظ سے بھارت کے بڑے شہروں میں دارالحکومت دہلی سر فہرست ہے جہاں گزشتہ برس تین ہزار 25 افراد نے خود کشی کر کے اپنی جانیں لے لیں۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More