پچیس ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر اعلیٰ پنجاب بن جائے گا، عدالت

لاہور: ہائیکورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے چناو سے متعلق اہم ریمارکس میں کہا ہے کہ پچیس ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جائے گا۔

لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعلی حمزہ شہباز کے حلف کے فیصلے اور گورنر کے اختیارات کے خلاف دائر اپیلوں پر سماعت ہوئی۔ عدالت نے اہم ریمارکس میں کہاکہ پچیس ووٹ نکال کر دوبارہ پولنگ کی صورت میں اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جائے گا۔اکثریت والا وزیر اعلیٰ بن جاتا ہے تو حمزہ شہباز کا نوٹیفکیشن ختم ہو جائے گا۔

عدالت نےکہاکہ کیس کا فیصلہ آج ہی کرنا چاہتے ہیں۔ایڈووکیٹ جنرل پنجاب حکومت سےہدایت لےکربتائیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے پنجاب اسمبلی کا اجلاس کب بلایا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف اور پنجاب حکومت کےوکیل ہدایات لے کر پیش ہوں۔ عدالت کی معاونت کریں کہ اگر ہم اجلاس دوبارہ 16 اپریل کی تاریخ پر لے جائیں اور پولنگ دوبارہ ہو تو بحران سے کیسے بچا جا سکتا ہے۔ایسی صورت میں پولنگ وہی پریزائڈنگ افسر کروائے گا جس نے 16 تاریخ کو کروائی۔

وکیل تحریک انصاف نےکہاکہ ہم نے ڈپٹی اسپیکر کے ذریعے پولنگ کو بھی چیلنج کیا ہے۔عدالت نےکہاکہ الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کروائے گا کیونکہ اس پر لاہورہائیکورٹ کا ایک فیصلہ موجود ہے جسے چیلنج نہیں کیا گیا۔

جسٹس شاہد جمیل نے کہاکہ وزیر اعلی کا آفس کسی صورت خالی نہیں رہ سکتا۔جسٹس صداقت علی خان نے کہاکہ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حمزہ کے پاس اکثریت نہیں رہی۔اگر اسپیکر 25ووٹ نکال کر الیکشن کرواتا ہے تو اکثریت رکھنے والا وزیراعلیٰ بن جائے گا اور دوبارہ حلف ہوگا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More