وزیر داخلہ نے وزیر اعظم کے پاس موجود خط سے لا علمی کا اظہار کر دیا

اسلام آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید نے گزشتہ روز کے جلسے میں وزیر اعظم کی جانب سے لہرائے جانے والے خط سے متعلق لا علمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خط سے متعلق کچھ علم نہیں۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اخلہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بھٹو خاندان کی کوئی سیاست نہیں ، زرداری خاندان سیاست کر رہا ہے ، عالمی سیاست بھی چلتی رہتی ہے ، عمران خان نے کل بہت بڑی بات کی ہے ، جس ملک کی معیشت کمزور ہوتی ہے وہاں کی خارجہ پالیسی کو آزاد کوئی جرات مند سیاستدان ہی کر سکتا ہے۔

عدم اعتماد سے متعلق سوال کے جواب پر وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ 30 یا 31 تاریخ کو آر پار کا فیصلہ ہو جائے گا ، میں تو ایمرجنسی لگانا چاہتا تھا ، سندھ میں بھی گورنر راج چاہتا تھا، یہ بھی کہا تھا کہ پنجاب اسمبلی توڑ دیں مگر وزیر اعظم متفق نہیں تھے ۔ شیخ رشید نے کہا کہ میں ملک میں امن و امان چاہتا ہوں ورنہ آڑدیو ، ویڈیوز موجود تھیں کہ تھیلے سندھ ہاؤس جا رہے ہیں ، میں نے صرف اس لئے صرف نظر کیا کہ ملک میں گند پڑ جائے گا ، لنگڑی ، لولی جمہوریت چلے لیکن چلتی رہے ، ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ ٹانگوں کے نیچے سے ہاتھ نکال کر کانوں کو لگائیں ، میں نہیں چاہتا کہ یہ 10 سال مرغا بنیں۔

عسکری قیادت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ میں عسکری قیادت اور پاک فوج کو سالمیت کی نشانی سمجھتا ہوں ، عظیم فوج کی نظر کسی کی ذات اور سیاست پر نہیں بلکہ پاکستان پر ہوتی ہے ، وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ، پاکستان کے حق میں بہتر ہوگا ، میں پچھلے دو سال سے کہتا آرہا ہوں کہ اسٹیبلشمنٹ پاکستان کے ساتھ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ میں چاہتا ہوں کوئی تصادم نہ ہو ، مسلم لیگ (ن) کے پاس آج کے جلسے کیلئے این او سی ہے جبکہ جے یو آئی کا وقت ختم ہو چکا ہے ، مسلم لیگ (ن) کے ورکر نہیں ہے انہوں نے آج مولویوں سے خطاب کرنا ہے ، فضل الرحمان کو چاہئے کہ آج دونوں لیڈران سے کہیں کہ باوضو ہو کر آئیں ۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More