لاہور ہائیکورٹ کا حمزہ شہباز سے کل تک وزیراعلیٰ کا حلف لینے کا حکم

لاہور: ہائیکورٹ نے نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز سے کل تک حلف لینے کا حکم دے دیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ کل تک گورنر خود یا کسی نمائندے کے ذریعے حلف لیں۔حلف میں تاخیر آئین کے خلاف ہے۔عدالت کا حکم گورنر پنجاب کو فوری بھیجا جائے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ گورنر پنجاب پابند ہیں کہ وہ قانون کے مطابق حلف لیں۔آئین کے تحت صدر اور گورنر پنجاب اپنے حلف کی پاسداری کے پابند ہیں۔پنجاب 25 دن کے بغیر وزیر اعلیٰ کے چل رہا ہے۔اس وقت عثمان بزدار وزیر اعلی ٰکی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے 3 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا۔

تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ 1973کے آئین کے تحت تمام حکومتوں کی فوری تشکیل کا کہا گیا ہے۔وفاقی صدر صوبائی گورنر نو منتخب نمائندوں کے حلف کا فوری انتظام لازمی ہے۔ تحریری فیصلے کے مطابق عدالت حلف میں پیدا کی جانے والی تاخیر کی تمام وجوہات کو مسترد کرتی ہے۔حلف میں تاخیر کا باعث بننے کے لیے آئین میں کوئی خلا یا جگہ نہیں ملتی، عثمان بزدار کے استعفیٰ کی منظوری کے بعد سے پنجاب حکومت کے بغیر چلایا جا رہا ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں قرار دیا ہے کہ نومنتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری میں کسی نہ کسی بہانے تاخیر کی جا رہی ہے۔نومنتخب وزیر اعلیٰ کی حلف برداری میں تاخیر آئین کے منافی ہے۔ لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ شہباز سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے کا حلف لینے کے لیےعدالتی حکم پر عملدرآمد کیلئے دائر درخواست پر محفوظ فیصلہ سنایا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نےحمزہ شہباز کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔درخواست میں سیکرٹری ٹو صدر پاکستان، فیڈریشن، وزیر اعظم اور پنجاب حکومت کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ درخواست گزار کے پاس اس معزز عدالت کے آئینی دائرہ اختیار کو استعمال کرنے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ درخواست کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے صدر پاکستان کو حلف کے لیے نمائندہ مقرر کرنے کی ہدایت کی تھی۔ صدرِ پاکستان عدالت کے حکم کے باوجود بغیر کسی وجہ کے اور تاخیر کر رہے ہیں۔ 22 اپریل کو عدالت نے پنجاب کے شہریوں کو درپیش مشکلات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ جاری کیا۔عدالتی حکم پر صدر پاکستان نے منتخب وزیر اعلیٰ سے حلف لینے کیلئے اقدامات نہیں کیے۔

صدر مملکت بطور سربراہ کسی سیاسی دباؤ کے بغیر اپنے فرائض پر عملدرآمد کرنے کے پابند ہیں۔صدر غیر جانبدارانہ کارروائی سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پی ٹی آئی کے حکم پر عمل کر رہے ہیں ۔ صدر پاکستان ایک سیاسی جماعت سے تعلق ہے۔صدر نے آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت اپنے خلاف پابندی ختم کر دی ہے۔صدر پاکستان فوجداری عدالتوں میں زیر التوا فوجداری مقدمات میں پیش ہو رہے ہیں۔

صدر پاکستان معزز عدالت کے حکم پر عمل نہ کر کے قانون کی بے توقیری کر رہے ہیں۔عدالت سینٹ چیئرمین کو حکم دے کہ وہ نومنتخب وزیراعلیٰ سے حلف لیں۔ واضح رہے کہ لاہور ہائیکورٹ نے صدر پاکستان کو نو منتخب وزیر اعلیٰ پنجاب سے حلف لینے کے لیے نمائندہ منتخب کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالتی حکم کے باوجود کوئی نمائندہ منتخب نہ ہونے پر حمزہ شہباز نے دوبارہ عدالت سے رجوع کیا تھا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More