وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں

اسلا م آباد: وزیر داخلہ شیخ رشید کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اور فوجی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

برطانوی نیوز ایجنسی کو خصوصی انٹرویو میں شیخ رشید کا کہنا تھا کہ ملک کا فائدہ اسی میں ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عمران خان ایک صفحے پر ہوں، اور فوجی قیاعمراندت کا فیصلہ ہے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کی سوچ اور رائے میں فرق ہو سکتا ہے، ایسا نہیں کہ سول حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک صفحے پر نہ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اور اداروں کی پالیسیاں ایک ہی صفحے پر ہیں، اپوزیشن چاہتی ہے کہ عمران خان اور فوجی قیادت کے درمیان تعلقات خراب ہوں، مگر نہ اسٹیبلشمنٹ بھولی ہے نہ عمران خان بھولا ہے۔ شیخ رشید بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ تسلیم کیا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے ایسا نظر آتا ہے کہ عدالتوں میں مقدمات لے جاتے وقت شاید درست انداز میں تیاری نہیں کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا مگر اس میں ہمیں وہ کامیابی نہیں ملی جو ملنی چاہیے تھی۔ شیخ رشید کہتے ہیں کہ ان کی حکومت کی کوشش ہے کہ ان افراد کو وطن واپس لایا جائے جو پاکستان میں عدالتوں اور حکومت کو مطلوب ہیں تاہم انھیں یہ شکایت بھی ضرور ہے کہ بہت سی کوششوں کے باوجود وہ تاحال اسحاق ڈار کی واپسی بھی ممکن نہیں بنا سکے۔

شہزاد اکبر سے متعلق سوال پر انھوں نے کہا کہ ان کے استعفی اور وزیر اعظم کی ان سے ناراضگی کی وجہ محض نواز شریف یا شہباز شریف کو واپس لانا ہی نہیں بلکہ ہم پیسے بھی تو واپس نہیں لا سکے۔ ’اربوں کی کرپشن ہوئی۔ ایک ایک ملازم کے اکاونٹ سے چار چار ارب روپے برآمد ہو رہے ہیں۔ صرف شہباز شریف پر 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے لیکن ہم ان کے پیسے بھی نہیں لا سکے۔

شیخ رشید احمد نے تصدیق کی کہ ملک کے مختلف حصوں، خصوصاً بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں دہشتگرد تنظیموں کے سلیپرز سیلز ایک بار پھر سرگرم ہوئے ہیں اور ان سے نمٹنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں اور کارروائیاں جاری ہیں۔

بی بی سی کو دئیے گئے انٹرویو میں شیخ رشید احمد نے یہ بھی کہا کہ ٹی ٹی پی کی مذاکرات کی شرائط ایسی تھیں جو پوری نہیں ہو سکتی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ اس وقت مذاکرات نہیں ہو رہے، سیز فائر کی خلاف ورزی کے بعد مذاکرات کا دروازہ تقریباً بند ہو چکا ہے۔ یہ معاہدہ تحریک طالبان پاکستان نے خود ختم کیا۔ ایک آدھ بار بات ہوئی مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More