کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟، سپریم کورٹ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے لانگ مارچ کے دوران راستوں کی بندش اور گرفتاریوں کیخلاف کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے کہ ملک دیوالیہ ہونے کے قریب، کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا۔

سماعت کے دوران جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کہ تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ ہے، سکولز اور ٹرانسپورٹ بند ، تمام امتحانات ملتوی، سڑکیں اور کاروبار بند کر دئیے گئے، معاشی لحاظ سے ملک نازک دوراہے اور دیوالیہ ہونے کے در پے ہے، کیا ہر احتجاج پر پورا ملک بند کر دیا جائے گا؟۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کے روبرو درخواست کہ مجھے تفصیلات کا علم نہیں، معلومات لینے کی مہلت دی جائے۔

جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیئے کہ اٹارنی جنرل صاحب، کیا آپ کو ملکی حالات کا علم نہیں؟ سپریم کورٹ کا آدھا عملہ راستے بند ہونے کی وجہ سے پہنچ نہیں سکا۔ اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کی کہ عوام کے تحفظ کیلئے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں، تحریک انصاف نے خونی مارچ کی دھمکی دی ہے، مسلح افراد کو احتجاج کی اجازت کیسے دے سکتے ہیں۔

سپریم کورٹ نے سیکریٹری داخلہ، آئی جی، چیف کمشنر اسلام آباد ، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو طلب کرتے ہوئے تفصیلی رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More