چین نے ڈرون اور کشتی برداردنیا کا پہلا خودکار بحری جہاز سمندر میں اتاردیا

بیجنگ: چین نے دنیا کا پہلا ایسا خودکار بحری بیڑہ بنایا ہے جس پر خودکار ڈرون، خودکار کشتیاں اور خودکار آبدوزیں ہیں۔ ابتدائی طور پراس کا مقصد تحقیق بتایا جارہا ہے لیکن خیال ہے کہ یہ دفاعی مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوسکے گا۔

اسے ’زو ہے ین‘ کا نام دیا گیا ہے جس میں 50 کے قریب خودکار ڈرون، کشتیاں اور چھوٹی آبدوزیں رکھی جاسکیں گی۔ اس بحری بیڑے کی لمبائی 290 فٹ ہے جو دنیا کا پہلا نیم خودکار ڈرون کیریئر ہے۔ یہ خودکار ڈرون اور کشتیاں لانچ کرسکتا ہے، ان سے رابطہ رکھے گا ۔ اس میں موجود آبدوزیں، کشتیاں اور فضائی ڈرون باہم مل کر ایک مشن انجام دے سکیں گے۔

تاہم چین نے کہا ہے کہ اسے نگرانی کے لیے بھی استعمال کیا جاسکے گا۔ چین نے کہا ہے کہ یہ خودکار تو ہے لیکن اسے مصروف بندرگاہوں کے قریب نہیں رکھا جائے گا۔ اسے کھلے اور دوردراز پانیوں میں پہنچاکر ہی ریموٹ کنٹرول سے چلایا جائے گا۔ اس کے بعد بحری بیڑے کا خودکار نظام اپنا کام شروع کردے گا۔ یہاں خودکار انداز میں کشتیاں پانی میں اتریں گی اور ڈرون پرواز کریں گے۔

چینی حکام کے مطابق وہ سمندر، فضا اور پانی کی سطح جیسے تینوں مقامات پر تحقیق کرنا چاہتے ہیں اور مخصوص مقاصد کے لیے تھری ڈی انداز میں سمندروں کا جائزہ لیا جائے گا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈرون کشتیوں اور آبدوزوں کو پانی میں اتارنے اور واپس جہاز تک لانے کا کام کریں گے جبکہ انسانی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہوگی۔

چینی اکادمی برائے سائنس سے وابستہ ڈاکٹر ڈیک چین نے اسے ایک نئی ’سمندری نوع‘ یا بحری ایجاد قرار دیا ہے جو سمندری تحقیق کو نئی جہات سے روشناس کرائے گی۔ تاہم انہوں نے اسے اسے ’اوشن ریسرچ پلیٹ فارم‘ کا نام بھی دیا ہے۔

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More